پاک افغان مذاکرات، میری خوش فہمی نہ ہو لیکن مجھےان میں امن نظر آیا تھا، خواجہ آصف

ہفتہ 25 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ناکامی کھلی جنگ تصور ہوگی۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 3، 4 دن سے کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے، اب دوبارہ استنبول میں مذاکرات ہورہے ہیں، اگر ناکام ہوتے ہیں تو کھلی جنگ ہوگی، میری خوش فہمی نہ ہو لیکن مجھے ان میں امن نظر آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: سرحدی کشیدگی کے باعث پاک افغان بارڈر کی بندش سے افغانستان میں غذائی قلت

انہوں نے سرکاری اسپتالوں کے طبی عملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف فوج کے وہ جوان ہیں جو عوام کی خاطر جانیں دے رہے ہیں دوسری طرف سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر ہیں جو نوکری پر نہیں آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حالت یہ یہاں کے میڈیکل کالج کے پرنسپل نے پورے شہر میں اپنے نام کی لیبارٹریز کھولی ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری ہیں، اس سے قبل قطر میں ہونے والی بات چیت میں سیز فائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مستقل جنگ بندی ممکن دوست ممالک کو کردار ادا کرنا پڑے گا، ایمبیسیڈر جاوید حفیظ

پاکستان کے سابق سفارتکار ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کا مستقبل کیا ہو گا اِس کے لیے مستقبل بینی کرنا پڑے گی کیونکہ ابھی مذاکرات کا ایک مرحلہ دوحہ میں مکمل ہوا ہے جس میں اچھے فیصلے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی اور سرحد پار دہشتگردی روکنے کے ساتھ ساتھ اِس معاہدے میں یہ کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک سفارتکاری کے ذریعے سے مسئلے کو حل کریں گے۔ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آج استنبول میں ہو گا تو دیکھتے ہیں اُس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں۔

استنبول مذاکرات میں دہشتگرد کاروائیوں کی مانیٹرنگ کا کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ فوجی اعتبار سے دیکھا جائے تو ممکنہ طور پر طرفین کی فوجیں مشترکہ طور پر سرحد کی نگرانی پر اِتّفاق کر سکتی ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد بہت طویل اور دشوار گزار ہے لیکن اس کے باوجود مرکزی داخلی راستے دونوں اطراف کی جانب سے مشترکہ طور پر حفاظت کیے جا سکتے ہیں اور ٹی ٹی پی کی کاروائیوں پر روک لگائی جا سکتی ہے۔

اِس کے علاوہ فوجی کمانڈرز کے درمیان انسدادِ دہشتگردی کے لیے ممکنہ طور پر ہاٹ لائن کمیونیکیشن قائم کی جا سکتی ہے تا کہ کسی بھی قسم کی دراندازی اور دہشتگرد کارروائی سے طرفین ایک دوسرے کو آگاہ کر سکیں۔ اِس کے علاوہ وزرائے خارجہ کے درمیان بھی ہاٹ لائن قائم کی جا سکتی ہے۔

کیا افغان سائیڈ امن کی خواہش رکھتی ہے؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ پچھلے 4 سال جس طرح سے ہمارا افغان طالبان رجیم کے ساتھ تعلق رہا، اس سے اُمید کم ہی رکھی جا سکتی ہے لیکن اس بار ہم دیکھتے ہیں کہ افغان طالبان رجیم نے جو وعدے کیے ہیں کیا وہ اُن پر عمل کرتے ہیں۔ اُنہوں نے امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ہمیں اِس پر شکوک و شبہات کا اظہار نہیں کرنا چاہییے۔

غیر مُلکی عناصر جنگ بندی معاہدے کے خلاف روبہ عمل ہو سکتے ہیں؟

ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ غیر مُلکی عناصر پاک افغان جنگ بندی معاہدے کے خلاف کام کر سکتے ہیں اور اِسے ختم کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں جن میں سب سے پہلے ہمارا مشرقی ہمسایہ بھارت ہے جو اِس معاہدے کو ختم کرانے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ بھارت نہ صرف افغان طالبان بلکہ دہشتگردی کے لیے ٹی ٹی پی سے بھی براہِ راست رابطے کرتا ہے۔

کیا چین قیام امن میں کردار ادا کر سکتا ہے؟

ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ چین اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے ایک بڑا اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور دوسری بات یہ کہ چین اور پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے سے یکساں مؤقف و مفاد رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین سمجھتا ہے کہ دہشتگرد گروہ سنکیانگ صوبے میں دہشتگرد کاروائیاں کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کو بھی سرحد پار دہشتگردی سے خطرات لاحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین طالبان رجیم کے ساتھ بات چیت کے ذریعے سے اُنہیں ایسی کاروائیوں سے اجتناب پر قائل کر سکتا ہے اور اُنہیں یہ بتا سکتا ہے کہ امن کی صورت میں افغانستان سی پیک میں شامل ہو کر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں شروع، بات چیت ناکام ہوئی تو کھلی جنگ ہوگی، خواجہ آصف

خلیجی ممالک کس طرح سے کردار ادا کر سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر جاوید حفیظ نے کہا کہ خلیجی ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب قیامِ امن کے سلسلے میں خصوصی کردار ادا کر سکتا ہے کیوںکہ سعودی عرب میں مقدّس مقامات کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا اُنہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قطر اور دیگر خلیجی ممالک بھی اِس معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp