ہم نے ایک سیاسی بادشاہت اُلٹ دی، ظہران ممدانی کا جیت کے بعد پہلا خطاب

بدھ 5 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ظہران ممدانی نے نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب ہونے کے بعد جذباتی خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘

مسلمان امیدوار ظہران ممدانی آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلوا کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی تمام تر دھونس دھمکیاں ناکام، ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر منتخب

سیاسی بادشاہت کا خاتمہ

انہوں نے اپنے حریف اینڈریو کومو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں انہیں نجی زندگی میں کامیابی کی دعا دیتا ہوں، لیکن آج کے بعد میں ان کا نام آخری بار لے رہا ہوں، کیونکہ ہم اس سیاست کو چھوڑ رہے ہیں جو چند لوگوں کے لیے تھی، سب کے لیے نہیں۔‘

خود کو سوشلسٹ ڈیموکریٹ قرار دینے والے 34 سالہ ظہران ممدانی نے کہا، ’میرے دوستو، ہم نے ایک سیاسی بادشاہت الٹ دی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ نے ظہران ممدانی کے جیتنے پر نیویارک کی فنڈنگ میں کٹوتی کی دھمکی دیدی

ممدانی نے اپنی فتح کو تبدیلی کے مینڈیٹ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رات آپ نے ایک نئے طرزِ سیاست، ایک ایسی شہر کے لیے مینڈیٹ دیا ہے جو سب کے لیے قابلِ برداشت ہو۔ یکم جنوری کو میں نیویارک سٹی کا میئر کے طور پر حلف اٹھاؤں گا۔‘

سب کے لیے انصاف اور برابری

ممدانی نے کہا کہ نیویارک سٹی اس سیاسی تاریکی کے دور میں روشنی کی علامت بنے گا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ تمام نیویارکرز کے لیے لڑیں گے ’چاہے آپ تارکِ وطن ہوں، ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے رکن، وہ سیاہ فام خواتین جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے نوکریوں سے برخاست کیا، یا وہ مائیں جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہیں، آپ کی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے: نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ یہودی کمیونٹی کے ساتھ کھڑی رہے گی اور انسدادِ سام دشمنی کے خلاف ہرگز نہیں ڈگمگائے گی، جبکہ ایک ملین سے زائد مسلم نیویارکرز کو یہ یقین دلایا کہ ’یہ شہر ان کا اپنا ہے اور نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔  میں مسلمان ہوں اور کسی کو اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔‘

ٹرمپ کے لیے 4 لفظ

ظہران ممدانی نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ، چونکہ مجھے پتا ہے تم دیکھ رہے ہو، میرے پاس تمہارے لیے چار الفاظ ہیں، اور زیادہ شور مچاؤ!‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم بدعنوان مالکان کا احتساب کریں گے، کیونکہ ٹرمپ جیسے ارب پتیوں نے اس شہر میں کرایہ داروں کا بہت استحصال کیا ہے۔ ہم ٹیکس چوری اور ناجائز چھوٹ کے کلچر کو ختم کریں گے، اور مزدور طبقے کے حقوق مضبوط بنائیں گے تاکہ کسی بھی آجر کو ان کا استحصال کرنے کی جرات نہ ہو۔‘

پسے ہوئے طبقات کے لیے آواز

انہوں نے اپنی جیت کو ان تمام طبقات کی کامیابی قرار دیا جو اس شہر کی سیاست میں اکثر نظر انداز کیے گئے، جیسے سینیگالی ٹیکسی ڈرائیورز، ازبک نرسیں، اور ترینیڈیڈین لائن کُک۔

مدانی نے کہا کہ ’یہ شہر تمہارا ہے، اور یہ جمہوریت بھی تمہاری ہے۔ میں ہر صبح ایک ہی مقصد کے ساتھ جاگوں گا کہ اس شہر کو کل سے بہتر بناؤں۔‘ انہوں نے اپنی پالیسیوں میں مفت چائلڈ کیئر، کرایہ کنٹرول، اور عوامی نقل و حمل کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ’یہ شہر تمہارا ہے اور اب اس کا مستقبل بھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈھاکہ میں منظم جرائم اور گینگ وار دوبارہ سر اٹھانے لگے، شہریوں میں تشویش

بنگلہ دیش میں ٹرک اور وین میں تصادم، 8 مزدور جاں بحق

سائنسدانوں کو دنیا میں مہلک امیبا کے پھیلاؤ پر تشویش، مسلسل نگرانی پر زور

غزہ امدادی فلوٹیلا کی روک تھام اور کارکنوں کی گرفتاری، اسپین اسرائیل تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی

کوشش ہے کہ صوبے میں اتحادی حکومت قائم کی جائے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ