بھارت میں ہریانہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے لیے استعمال ہونے والی ایک برازیلی ماڈل کی آئی ڈی والے تنازعے نے ایک نیا موڑ لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہریانہ انتخابات: برازیلی ماڈل کے متعدد ووٹس، راہول گاندھی نے مودی حکومت کی دھاندلی کا پردہ فاش کردیا
جمعرات کو ایک خاتون ووٹر جنہیں راہول گاندھی کے بیان کے بعد توجہ حاصل ہوئی نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ووٹر کارڈ پر موجود تصویر اصلی ہے جب کہ کانگریس رہنما نے جس کارڈ کو جعلی قرار دیا اس پر لگی تصویر کسی اور کی ہے۔
اپنا نام منیش بتانے والی خاتون نے کہا کہ میرے ووٹر کارڈ پر میری ہی تصویر ہے لیکن جس کارڈ کو راہول گاندھی نے دکھایا وہ میرا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ووٹ ڈالا تھا مگر مجھے نہیں معلوم اس جعلی کارڈ پر کس کی تصویر ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ خاتون کے مطابق ووٹر کارڈ کی جو کاپی راہول گاندھی کے پاس ہے اس پر ان کی تصویر نہیں (وہ ایک برازیلی ماڈل کی ہے)۔
بدھ کے روز راہول گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ ہریانہ کے رائے حلقے میں گزشتہ سال ایک ہی ووٹر آئی ڈی کارڈ 22 مرتبہ ووٹنگ کے لیے استعمال ہوا اور اس پر ایک برازیلی خاتون کی تصویر لگی تھی۔
مزید پڑھیے: ’مودی ٹرمپ اور امریکا سے خوفزدہ ہیں ‘، راہول گاندھی کی بھارتی وزیرِاعظم پر تنقید
یہ وہی حلقہ ہے جہاں بی جے پی کے امیدوار کرشنا گہلوت نے کانگریس کے بھگوان انتل کو 4,673 ووٹوں سے شکست دی تھی۔
راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ یہ منظم دھاندلی ہے جس کے ذریعے کانگریس کی واضح برتری کو شکست میں بدلا گیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کی مدد کر رہا ہے اور جان بوجھ کر جعلی یا دوہرے ووٹر آئی ڈیز کو فہرستوں سے نہیں ہٹا رہا۔
دوسری جانب بی جے پی رہنما کرن رجیجو نے راہول گاندھی پر جھوٹے الزامات لگانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بہار میں انہیں کوئی اشو نہیں ملا اس لیے وہ اب ہریانہ کی طرف توجہ موڑ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کانگریس نے ہریانہ کے نتائج کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعتراض یا اپیل جمع نہیں کرائی تھی۔
مزید پڑھیں: راہول گاندھی کی ’ووٹ چور؛ گدی چھوڑ‘ مہم، بھارت کا انتخابی بحران بے نقاب
کمیشن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ کانگریس خود انتخابی عمل کے دوران مناسب نگرانی میں ناکام رہی۔
سونی پت میں ووٹر لسٹ میں بے ضابطگیاں، این ڈی ٹی وی رپورٹ
دریں اثنا این ڈی ٹی وی کی ایک آزادانہ تحقیق میں سونی پت کے علاقے ملک پور میں ووٹر فہرستوں میں کئی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض ووٹرز جن میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شامل تھے ووٹر لسٹ سے غائب پائے گئے۔
ایک ووٹر انجلی تیاگی نے بتایا کہ انہوں نے وفاقی انتخابات (اپریل-مئی 2024) میں ووٹ ڈالا تھا لیکن 5 ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کا نام فہرست سے غائب تھا۔
’تصویر ہے کسی اور کی ووٹ ڈالتا کوئی اور ہے‘
اس معاملے میں اصل برازیلی خاتون کی شناخت لارِسا نیری کے طور پر ہوئی ہے جو ایک ہیئر ڈریسر ہیں۔ یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے (ان کے مطابق) کوئی ووٹ نہیں ڈالا لیکن راہول کے پاس جس ووٹر کارڈ کی کاپی ہے اس پر تصویر ان کی ہی ہے لیکن بہت پرانی والی۔
برازیلی ماڈل لارسا نیری نے 8 سال قبل کھنچوائی گئی اپنی تصویر کے غلط استعمال پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر وزیر اعظم مودی کی خاموشی، راہول گاندھی نے کیا وجہ بتائی؟
لارسا نیری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ دوستو، وہ میری پرانی تصویر استعمال کر رہے ہیں اور یہ 8 سال پرانی ہے جب میری عمر تقریباً 18 یا 20 سال تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ انتخابات کا معاملہ ہے یا کچھ اور۔













