وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم سے 27ویں آئینی ترمیم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ یہ وعدہ پورا کررہے ہیں جس کے بعد یہ ترمیم اب صرف ایک جماعت کا مطالبہ نہیں بلکہ ’پاکستان کی ناگزیر ضرورت‘ بن چکی ہے۔
وی نیوز ایکسکلیوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکزی رہنما مصطفیٰ کمال نے کہاکہ وزیراعظم سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کے دوران مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اہم شقوں پر بات ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم سے قبل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں وقفہ کیوں کیا گیا؟
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ آرٹیکل 140 اے کی واضح تشریح کے لیے ایم کیو ایم نے 10 صفحات پر مشتمل مسودہ تیار کیا ہے تاکہ صوبائی حکومتیں اس کی اپنی من پسند تعبیر نہ کر سکیں۔
’وزیراعظم نے 26ویں ترمیم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ترمیم میں مقامی حکومتوں کے اختیارات کو باقاعدہ آئینی تحفظ دیا جائے گا، اور اب وہ وعدہ عملی صورت اختیار کرچکا ہے‘۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک میں جمہوریت کا تصور محض وزیر یا وزیراعظم بننے تک محدود ہوچکا ہے، جبکہ حقیقی جمہوریت نچلی سطح سے شروع ہوتی ہے۔ سیاسی اور سماجی مسائل اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک مقامی حکومتوں کا مؤثر ڈھانچہ قائم نہیں ہوتا۔
’صوبوں سے اضلاع اور یونین کونسلز تک وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر گڈ گورننس ممکن نہیں‘۔
’وفاق بجٹ کے پہلے دن ہی قرض کے بوجھ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے‘
مصطفی کمال نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ذمہ داریوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق بجٹ کے پہلے دن ہی قرض کے بوجھ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور دفاع، پی آئی اے، ریلوے اور قرضوں کی ادائیگی جیسے بڑے اخراجات اسی کے ذمے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ صوبے بھی ان ذمہ داریوں میں حصہ ڈالیں۔
ان کے مطابق کراچی سمیت بڑے شہری مراکز اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔ اگر اربن گورننس مؤثر بنا دی جائے تو قومی معیشت کو نمایاں فائدہ ہو سکتا ہے۔
’دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں شہری حکومتوں کو بااختیار بنایا گیا ہے جبکہ پاکستان میں بلدیاتی نظام کمزور ہے‘۔
’حکومت کے پاس 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمانی اکثریت موجود ہے‘
وفاقی وزیر نے واضح کیاکہ حکومت کے پاس 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمانی اکثریت موجود ہے اور اس حوالے سے کسی دباؤ یا عدم استحکام کا سامنا نہیں۔ ترمیم کو پہلے سینیٹ، پھر قومی اسمبلی اور متعلقہ کمیٹیوں میں پیش کیا جائے گا۔
فیصل واوڈا کے 28ویں ترمیم سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے جس میں وقت کے ساتھ تبدیلی ممکن ہے، اور اگر قومی اتفاقِ رائے ہو تو مزید ترامیم لائی جا سکتی ہیں۔
پاکستان افغانستان تعلقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد کی پوزیشن ’پہلے سے زیادہ مضبوط‘ ہے اور ماضی کا وہ تاثر اب ختم ہو چکا ہے کہ پاکستان کسی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوگئی، آئینی ترمیم منظور ہوتی نظر آرہی ہے، فیصل واوڈا
صحت کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ ایک ڈیوالڈ سبجیکٹ ضرور ہے، لیکن آبادی کنٹرول، انسدادِ امراض اور نیشنل اسٹینڈرڈز جیسی سطح پر وفاق کا فعال کردار ناگزیر ہے۔
’پولیو جیسے معاملات میں مقامی نمائندوں کا کردار اہم ہے کیونکہ لوگ باہر سے آنے والے افراد پر اتنا اعتماد نہیں کرتے‘۔













