ڈھاکا ایئرپورٹ سے اسلحہ چوری، اندرونی عملے کے ملوث ہونے کا شبہ

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش میں ایک بڑے سیکیورٹی اسکینڈل نے سول ایوی ایشن حکام کو ہلا کر رکھ دیا۔

ڈھاکا کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک کارگو والٹ سے 38 جدید اسلحے اور ایک لاکھ سے زائد گولیوں کے غائب ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ حال ہی میں ایئرپورٹ کے کارگو سیکشن میں لگنے والی آگ کے بعد پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈھاکا: بنگلادیش ایئرفورس کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، متعدد اموات اور 100 سے زائد زخمی

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، نامعلوم افراد نے ایک اسلحہ درآمد کرنے والی کمپنی کے مضبوط لاکر میں نقب لگا کر قیمتی ہتھیاروں کے کئی بکس چرا لیے۔

21 کارٹن میں سے نمبر 208 والے کارٹن کے 7 بکس غائب پائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چوروں نے کم قیمت اسلحہ چھوڑ کر صرف مہنگے ہتھیار اٹھائے۔

ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں 3 جنرل ڈائریاں درج کی گئیں، تاہم سول ایوی ایشن کی ابتدائی رپورٹ میں صرف 7 اسلحوں کی گمشدگی کی تصدیق کی گئی۔

وزارت نے سیکیورٹی میں بہتری کے لیے متعدد تجاویز پیش کیں، جن میں اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور کارگو مانیٹرنگ کو مزید سخت کرنے کی سفارش شامل ہے۔

یہ ہتھیار گن میکس نامی لائسنس یافتہ بنگلہ دیشی کمپنی کے تھے، جس کے مالک فیصل کبیر نے میڈیا کو بتایا کہ 18 اکتوبر کو آگ لگنے کے وقت ان کے 4 کارگو کنسائنمنٹ ایئرپورٹ کے والٹ میں محفوظ تھے۔

مزید پڑھیں: ڈھاکا: تھرڈ میڈ اِن پاکستان ایگزیبیشن کا آغاز، دوطرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کا عزم

’آگ سے ہمارا اسلحہ تو متاثر نہیں ہوا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد وہ غائب ہوگیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بارہا پوچھنے کے باوجود کسٹمز اور اسٹوریج حکام کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے، لاپتا سامان میں 16 امریکی پستول، 22 بھارتی و جرمن ساختہ ایئر رائفلز، 20 ہزار ترک ساختہ گولیاں اور تقریباً ایک لاکھ ایئر گن پیلٹس شامل تھے۔

’ہم نے تمام قانونی اجازت نامے حاصل کیے ہوئے تھے، جب کسی کے پاس کوئی وضاحت نہ تھی تو ہمیں پولیس رپورٹ درج کرانا پڑی۔‘

مزید پڑھیں:ڈھاکا یونیورسٹی کے انتخابی نتائج بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی، ششی تھرور کا نقطہ نظر

ایئرپورٹ پولیس کے ایک افسر نے تصدیق کی کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کتنے ہتھیار چرائے گئے اور کون اس کے پیچھے ہے۔

واقعے کے بعد وزارتِ شہری ہوابازی نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس نے اپنی رپورٹ میں اسلحے کی گمشدگی اور بِیمن بنگلہ دیش ایئرلائنز کی ’سنگین غفلت‘ کی نشاندہی کی۔

رپورٹ میں 24 گھنٹے سی سی ٹی وی کوریج، سخت سیکیورٹی چیکس اور 21 دن سے زائد عرصے تک غیر دعویدار کارگو پر قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی۔

مزید پڑھیں:ڈھاکا میں عوامی لیگ کا اچانک جلوس، 7 کارکن ریمانڈ پر، ایک جیل بھیج دیا گیا

ڈھاکا کسٹمز ہاؤس کے جوائنٹ کمشنر قمرالحسن نے وضاحت کی کہ ان کا محکمہ صرف ڈیوٹی وصول کرتا ہے، سیکیورٹی نہیں۔

’سامان کی تحویل بیمن ایئرلائنز کے پاس ہوتی ہے، ہم صرف کاغذات کی تصدیق کے بعد ریلیز کرتے ہیں۔‘

پولیس نے جل کر خراب ہونے والے والٹ سے بازیاب سامان کی فہرست بھی جاری کی، جس میں 67 پستول، 12 شاٹ گنز، ایک اسالٹ رائفل، 138 خالی میگزین اور ایک ہزار کے قریب بلینک کارتوس شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈھاکا میں جماعت اسلامی کا بڑا پاور شو، انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کردیا

ماہرین کے مطابق چوری غالباً اسی دوران ہوئی جب آگ اور بجلی کی بندش کے باعث سی سی ٹی وی نظام ناکارہ ہو گیا تھا۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی چوری ایئرپورٹ کے اندرونی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

’چوروں کو معلوم تھا کہ وہ کیا لے جا رہے ہیں، انہوں نے سستے ہتھیار چھوڑ کر صرف مہنگے اسلحے اٹھائے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اندر سے مکمل معلومات اور مدد حاصل تھی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان