وزیر دفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے 27ویں ترمیم کی منظوری پر تنقید کرنے والوں کو کہا ہے کہ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قوانین پاس کرنے والے اور اسمبلی توڑنے والے اب آئینی ترمیم اور قانون سازی پر تنقید کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: خواجہ آصف کا پی آئی اے کے خلاف ’منفی مہم‘ پر ردعمل، تمام الزامات مسترد
آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے اور اسمبلی توڑنے والے ھمیں آئینی ترمیم اور قانون سازی پہ طعنہ دے رہیں ھیں۔ اقتدار کے دوام کے لئیے ولدیت کے خانے میں جنرل باجوہ کا نام لکھنے والے۔۔ اخلاق باختہ لوگ پاکدامنی پہ لیکچر دے رہے ھیں۔۔
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 13, 2025
خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر مزید کہا کہ اقتدار کے دوام کے لیے ’ولدیت کے خانے میں جنرل باجوہ کا نام لکھنے والے‘ اور اخلاق باختہ لوگ اب پاکدامنی پر لیکچر دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رویے ملکی سیاسی نظام اور عدلیہ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ایکس پر جاری ایک اور بیان میں خواجہ آصف نے سابق جج سپریم کورٹ منصور علی شاہ کی جانب سے استعفے پر لکھے شعر پر تبصرہ کیا کہ یہ شعر اس وقت یاد نہ آیا جب انصاف کا قتل عام ہو رہا تھا، ججوں کا ایک ٹولہ مل کر سیاسی مفادات کا محافظ بنا ہوا تھا۔
یہ شعر اسوقت یاد نہ آۓ جب انصاف کا قتل عام ھو رہا تھا ججوں کا ایک ٹولا مل کر آئین اور قانون کے محافظ کے بجاۓ کسی کے سیاسی مفادات کے محافظ بنے ھوۓ تھے۔ سیاسی پارٹی کے ورکر بنے تھے۔ یہ شعر لکھنے سے پہلے اپنا ماضی یاد کر لیتے تو شاید کوئ شرم کوئ حیا آجاتی۔ pic.twitter.com/mqGbBN7H1j
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 13, 2025
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ بار انتخابات، کے پی میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدواروں کی شکست پر خواجہ آصف کا طنزیہ ردِعمل
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ ججز آئین اور قانون کے بجائے سیاسی مفادات کے محافظ تھے، سیاسی پارٹی کے ورکر تھے، شعر لکھنے سے پہلے اپنا ماضی یاد کرلیتے تو شاید کوئی شرم کوئی حیا ہی آجاتی۔














