وزیر اعظم کی زیرصدارت اجلاس:23 مارچ کی تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ، بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اہم اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر ہفتے میں 4 دن کام کرنے کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ پہلے کی طرح اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل ہونے والی رقوم موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی اور تمام بچت عوامی فلاح کے لیے مختص ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: کفایت شعاری اور عالمی یکجہتی: یومِ پاکستان کے جشن میں سادگی اختیار کرنے کا اعلان

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح ریاستی ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں مرحلہ وار 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی اور یہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال ہوگی۔

مزید یہ کہ ایسی کارپوریشنز اور ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے شامل ہیں، ان کے سرکاری نمائندے بورڈ اجلاسوں کی فیس وصول نہیں کریں گے اور یہ رقم بھی بچت فنڈ میں شامل کی جائے گی۔

مزید فیصلوں کے مطابق آئندہ دو ماہ تک سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کی جائیں گی۔ اس عمل کی شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کروایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت آزاد کشمیر کا وفاقی حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کو اپنانے کا فیصلہ

حکومت نے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور دیگر سرکاری خریداریوں پر بھی پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ بھی لی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ تک کابینہ ارکان، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں بھی عوامی فلاح کے لیے بطور بچت استعمال کی جائیں گی۔

وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی برقرار رکھنے اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن اجلاسوں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام سادگی اور کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی متعلقہ سیکریٹریز کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کا اسرائیل کو فراہم کردہ اسلحہ غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘