بنگلہ دیش کی برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے خلاف عدالتی فیصلے سے قبل اپنے حامیوں کے لیے ایک آڈیو پیغام جاری کیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا چاہتی ہے۔ سابق وزیراعظم نے الزام لگایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور وہ ایسے فیصلوں کی پروا نہیں کرتیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت نے شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کیخلاف جرائم کا مرتکب قرار دے دیا
شیخ حسینہ نے کہا کہ عوامی لیگ نچلی سطح سے وجود میں آئی ہے اور یہ اقتدار کسی غاصب کی جیب سے نہیں ہے، لہذا جماعت کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔
آڈیو پیغام میں انہوں نے نوبیل انعام یافتہ محمد یونس اور ان کی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی کر کے منتخب نمائندوں کو زبردستی ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام خود انصاف کریں گے اور بنگلادیش کو درست سمت میں لائیں گے۔
انہوں نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ عدالت کا فیصلہ انہیں نہیں روک سکتا اور کہا کہ وہ اپنے ملک کے لوگوں کے لیے کام جاری رکھیں گی۔ شیخ حسینہ نے کہا، مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں زندہ ہوں اور اللہ نے مجھے زندگی دی ہے، وہی اسے لے گا۔
یہ بھی پڑھیے: شیخ حسینہ کے خلاف متوقع فیصلے سے قبل ڈھاکا سمیت 3 اضلاع میں فوجی دستے تعینات
سابق وزیراعظم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کو بھی رد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 10 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کو تحفظ دیا اور اب ان پر اسی کے برعکس الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
شیخ حسینہ نے حامیوں کو بتایا کہ لوگ ان کے احتجاج کی کال پر فوری ردعمل دے چکے ہیں اور عوام نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں کو کھو چکی ہیں اور ان کا گھر بھی جلایا گیا، لیکن وہ عوام کی بھلائی کے لیے کام جاری رکھیں گی۔













