پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے پر اڈیالہ جیل کے باہر ان کی بہنوں نے احتجاجی دھرنا دیا تاہم پولیس نے کارروائی کرنے کے بعد دھرنا ختم کروا دیا۔
عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمی خان کو پولیس نے دھرنا دینے پر حراست میں لے لیا تاہم بعد میں چکری انٹرچینج پر رہا کردیا جس کےے بعد وہ لاہور روانہ ہوگئیں۔ دوسری طرف متعدد کارکنان سمیت رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر مینا آفریدی کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔
یہ بھی پڑھیے: 27ویں ترمیم، وہ لمحہ جب اسپیکر نے پی ٹی آئی ارکان کو زمین پر بیٹھنے پر مجبور کردیا
دھرنا منتشر کرانے کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے مابین تلخ کلامی گالم گلوچ بھی ہوا اور پولیس نے علیمہ خان اور نورین نیازی کو گھسیٹا۔ دھکم پیل اور کھینچا تانی میں نورین نیازی سڑک پکر گر گئیں اور ان کی طبیعت خراب ہوگئی جبکہ ہاتھ پر چوٹ بھی لگ گئی۔
کارروائی کے بعد سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس اڈیالہ جیل پہنچ گئے اور کارکنوں سے ملاقات کی۔
تینوں بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان ہہنوں نے دن 2 بجے سے دھرنا دیا ہوا تھا۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی تاہم بات چیت ناکام رہی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
رات کے اس پہر اڈیالہ جیل کے قریب @ImranKhanPTI کی تینوں بہنیں تنِ تنہا سڑک پر دھرنا دئیے بیٹھی ہیں،کہاں گئی پارٹی،کہاں گئے پارٹی لیڈر،کہاں گئے کارکنان، کہاں گئے وکلاء، سوشل میڈیا پر تو تحریک زوروں پر ہے۔ pic.twitter.com/Am8c4cwyPP
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) November 18, 2025
مذاکرات کی ناکامی کے بعد راولپنڈی پولیس نے دھرنے کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے مرد کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا، اس سے قبل علاقے میں بجلی اور لائٹس بند کردی گئی تھی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کا آغاز کردیا۔
پولیس کارروائی کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں اپنا دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آج جیل میں عمران خان سے ملاقاتوں کا دن تھا، تاہم بہنوں سمیت کسی سے بھی ملاقات نہ ہو سکی۔














