خیبرپختونخوا: اسٹون کرشنگ کیس میں عدالت نے درخواست نمٹا دی، حکمنامہ بعد میں جاری ہوگا

بدھ 19 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں اسٹون کرشنگ سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے اور مناسب حکمنامہ بعد میں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ فوری طور پر اسٹون کرشنگ کھولنے کا حکم نہ دیا جائے اور پہلے مالکان متعلقہ اداروں کو مطمئن کریں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عدالت کا مقصد ماحولیات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اسٹون کرشنگ پلانٹس کیس کی سماعت

وکیل نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے قواعد کے مطابق شہروں میں اسٹون کرشنگ یونٹس کے لیے 500 میٹر اور دیہی علاقوں میں 300 میٹر فاصلہ ہونا چاہیے، جبکہ بعض دیہی علاقوں میں 60 میٹر کے فاصلے پر یہ کام جاری ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ عدالت کا کام صرف حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کروانا نہیں اور یہ ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہے، تاہم وہ متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کو اسٹون کرشنگ کے رولز مرتب کرنے کی مہلت دیدی

عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد حتمی حکمنامہ جاری کرنے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کردی، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ

بھارت: ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب میں مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ دیا، شدید تنقید کا سامنا

چیف جسٹس کے قتل پر اکسانے کا الزام، کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما ظہیر الاسلام کو 35 سال قید کی سزا

تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے بیانات کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا نمبر؟ سہیل آفریدی کی پالیسی مکمل ناکام

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی