بھارت نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، روس سے تیل کی درآمد بند

ہفتہ 22 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سب سے بڑی نجی آئل ریفائنری ریلیائنس انڈسٹریز نے امریکی پابندیوں کی ڈیڈ لائن سے قبل روسی خام تیل کی درآمد روک دی ہے۔ کمپنی کے مطابق روسی تیل کی آخری کھیپ 12 نومبر کو لوڈ کی گئی تھی، جس کے بعد مزید تیل نہیں خریدا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:روسی تیل خریدنے پر پابندیاں، ریلائنس انڈسٹریز کا معاہدوں پر ازسرِنو غور

رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکا نے 22 اکتوبر کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن کا مقصد روسی توانائی شعبے پر دباؤ بڑھانا اور ماسکو کی جنگی مشینری کے لیے وسائل کی فراہمی محدود کرنا ہے۔

ان پابندیوں کے تحت کمپنیوں کو 21 نومبر تک روسی کمپنیوں Rosneft اور Lukoil سے تمام معاملات ختم کرنا تھے۔

ریلیائنس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ 22 اکتوبر تک کیے گئے تمام پرانے معاہدوں کے تحت آنے والی کھیپوں کو ہی پورا کیا جا رہا ہے، جبکہ پابندیوں کے بعد کمپنی روسی تیل خریدنے پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔

بلومبرگ کے مطابق ریلیائنس کی ایکسپورٹ ریفائنری عالمی منڈی خصوصاً یورپ کو سپلائی جاری رکھ سکے گی۔

کمپنی نے کہا ہے کہ پابندیوں سے قبل خریدا گیا تیل جام نگر ریفائنری کے اُس حصے میں پروسیس ہوگا جو ملکی مارکیٹ کو سپلائی کرتا ہے، جبکہ 20 نومبر کے بعد آنے والی تمام کھیپیں ڈومیسٹک ٹیرف ایریا (DTA) میں وصول کی جائیں گی۔

ریلیائنس کا جام نگر کمپلیکس دنیا کی سب سے بڑی ریفائننگ سہولت ہے جس کی یومیہ استعداد 1.4 ملین بیرل ہے۔

اکتوبر میں بھارت روسی تیل کا دوسرا بڑا خریدار رہا۔ اسی دوران گجرات میں واقع ودینار ریفائنری نے بھی اپنی پیداواری صلاحیت کو 90 فیصد تک بڑھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کا روسی تیل و گیس پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ

تحقیقاتی ادارے CREA کے مطابق بھارت کی آئل درآمدات میں نجی ریفائنریوں کا حصہ 2 تہائی سے زائد ہے جبکہ سرکاری ریفائنریوں نے بھی اکتوبر میں روسی تیل کی خرید تقریباً دگنی کر دی۔

امریکا بھارت پر دباؤ کیوں ڈال رہا تھا؟

روس پر امریکا اور یورپی ممالک کی پابندیاں دراصل یوکرین جنگ کے مالی وسائل محدود کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ روسی تیل کی فروخت ماسکو کو جنگ جاری رکھنے کے لیے آمدنی فراہم کرتی ہے۔

روس نے پابندیوں کے بعد مشرقی اور جنوبی ایشیا، خاص طور پر بھارت کو رعایتی نرخوں پر تیل بیچ کر اپنی برآمدات بڑھائیں۔

بھارت نے اپنی توانائی ضرورت اور کم قیمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روسی تیل کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ کر دیا، جس سے روس کی آمدنی کم ہونے کے بجائے کچھ عرصہ تک بڑھی۔

امریکا چاہتا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرے تاکہ روس پر معاشی دباؤ بڑھے، اسی لیے واشنگٹن نے نئی پابندیوں اور ڈیلز ختم کرنے کی ڈیڈ لائن کے ذریعے بھارتی کمپنیوں پر دباؤ بڑھایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے میٹا کی نئی حکمتِ عملی

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘