دبئی میں بھارتی لائٹ کومبیٹ ایئرکرافٹ تیجاس کے کریش کے بعد بھارت کے دفاعی بیانیے پر گہرے سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے نہ صرف بھارتی دفاعی ٹیکنالوجی پر اعتماد کو متزلزل کیا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق بحث بھی تیز کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:دبئی ایئرشو میں تیجاس طیارے کا حادثہ، ‘بھارتی طیاروں کی برآمدات کا امکان تقریباً ختم ہوگیا’
عالمی اور علاقائی میڈیا خصوصاً رائٹرز اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹنگ کے مطابق اس حادثے کے بعد 3 بڑے نکات نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔

اول بھارتی ساختہ سنگل انجن فائٹر پلیٹ فارم پر اعتماد شدید بحران سے دوچار ہو گیا ہے۔ دوم ’میڈ اِن انڈیا‘ دفاعی برانڈنگ، جسے بھارت عالمی سطح پر فروغ دیتا رہا ہے، اپنی چمک کھوتی دکھائی دے رہی ہے اور خریدار اب اسے زیادہ رسک کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔سوم اس کے برعکس پاکستان کے JF-17 کی جنگی تجربات سے گزرنے والی مارکیٹنگ، چین کے J-10C سمیت پاکستان کے mixed fleet advantage کو زیادہ قابلِ اعتبار اور دلکش آپشن کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:2 سال میں 2 کریش، تیجاس طیارے کی پروڈکشن ناقص کیوں؟
صورتحال میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر جاری انکوائری رپورٹ تیجاس میں کسی بنیادی ڈیزائن یا سسٹم فالٹ کو ظاہر کرتی ہے تو بھارتی کمپنی HAL کے لیے بھاری مشکلات جنم لے سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں HAL کو اضافی ٹیسٹنگ، ریٹروفٹ اور نئی سرٹیفکیشن کے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف کمپنی کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ ڈیلیوری شیڈول، غیر ملکی آرڈرز، اور شیئر ویلیو بھی دباؤ کا شکار ہوگی۔

علاوہ ازیں، بیرونی مارکیٹوں میں تیجاس سے متعلق جاری ایکسپورٹ نیگوشی ایشنز تاخیر، ازسرنو جائزے اور حتیٰ کہ ممکنہ منسوخی کا خطرہ بھی بھگت سکتی ہیں۔ اس خلا سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان سمیت دیگر متبادل سپلائرز اپنے فائٹر پلیٹ فارمز کو تیزی سے پیش کر سکتے ہیں، جس سے خطے میں دفاعی مارکیٹ کے نقشے میں نمایاں تبدیلی کا امکان ہے۔












