وادی ہنزہ میں غیرمعمولی موسمی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اُلتر گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر برفانی تودے کی صورت میں نیچے آیا اور علاقے کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہنزہ: مقامی افراد نے پہاڑوں سے زخمی شہری کو ریسکیو کرلیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق تیز اور سرد ہواؤں کے باعث وادی میں معمولات زندگی دوسرے روز بھی شدید متاثر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنزہ میں برفانی تودے عموماً مارچ اور اپریل کے دوران گرتے ہیں تاہم نومبر میں اس نوعیت کا واقعہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اُلتر گلیشیئر ہنزہ کے درجنوں گلیشیئرز میں سے ایک اہم گلیشیئر ہے جس کے ٹوٹنے سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مزید پڑھیے: ہنزہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی، فصلیں تباہ، رہائشی مکان متاثر
حکام صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو اس واقعے کی اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔













