خوشبو جو مجھے غزہ لے جاتی ہے

جمعرات 27 نومبر 2025
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’گزشتہ سال میں نے اپنے وطن غزہ کو چھوڑ دیا۔ جب میں مصالحوں کی خوشبو محسوس کرتا ہوں، مجھے اپنی زندگی کے وہ لمحات یاد آ جاتے ہیں جو میں نے فلسطین میں گزارے۔ یہ مصالحے میری نئے زندگی اور میرے وطن کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں‘۔

یہ کہنا ہے غزہ میں پیدا ہونے والے فنکار محمد الحواجری کا جو این سی اے ٹرائینالے کے بارے میں اپنے تجربات بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مصالحوں کے ساتھ ان کے تعلق کی ایک خاص کہانی ہے، اسی لیے وہ اپنے آرٹ  ورک  میں مصالحے استعمال کرتے ہیں۔

ان کا پروجیکٹ آئی سمیل مائی ہوم لینڈ کہلاتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ ان کے فن کو منفرد سمجھتے ہیں کیونکہ وہ مختلف تکنیکوں سے مختلف مواد استعمال کرتے ہیں۔ الحواجری کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد فن کو پیچیدہ بنانا نہیں بلکہ اسے زیادہ سادہ اور سمجھنے میں آسان بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے لاہور میں این سی اے ٹرائینالے میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ جب میں یہاں پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ سب کچھ بہت منظم طریقے سے منعقد کیا گیا ہے۔ این سی اے ٹیم کی کارکردگی اور ان کا کام کرنے کا انداز واقعی متاثر کن ہے۔ ٹرائینالے ایک اہم موقع ہے جہاں فنکار ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تجربات بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ یہاں آ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں گھر آیا ہوں، کیونکہ میں ایک عرب ملک سے ہوں اور یہاں کے لوگ وہاں کے لوگوں کی طرح گرم جوش اور مہمان نواز ہیں۔

یہ کہانی ان 200 فنکاروں میں سے ایک کی ہے جو 20 ممالک سے این سی اے لاہور پہنچے ہیں تاکہ این سی اے ٹرائینالے میں حصہ لیں۔

این سی اے ٹرائینالے  کسبِ کمال کن

نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں این سی اے ٹرائینالے کسبِ کمال کن جاری ہے، جس میں بین الاقوامی فن اور ثقافت کی متنوع سرگرمیاں پیش کی جا رہی ہیں۔

ایک ماہ پر محیط اس پروگرام میں دنیا بھر سے معروف فنکار، ڈیزائنر، موسیقار، محقق اور ثقافتی ماہرین شریک ہیں۔

یہ ٹرائینالے این سی اے کی 150 سالہ تاریخ کا جشن بھی ہے، جس کی بنیاد 1875 میں میو اسکول آف آرٹ کے طور پر رکھی گئی تھی۔

ٹرائینالے  میں یورپ، چین، ایران، برطانیہ، فلسطین ، پاکستان اور دیگر ممالک کے 200 سے زائد فنکار حصہ لے رہے ہیں۔ این سی اے نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اپنے آرکائیو میں محفوظ نایاب فن پارے بھی نمائش کے لئے پیش کئے ہیں۔

ٹرائینالے میں بین الاقوامی فنکار ریذیڈنسیز، نمائشیں، فلم اسکریننگز، پرفارمنسز، بصری فنون کی نمائش، فیکلٹی کی نمائش “Scope Eleven”، فوٹو گرافی شو “Pekar-e-Tasveer”، فرنیچر اور ٹیکسٹائل ڈیزائن کی نمائش، بین الاقوامی پوسٹر ڈیزائن، مشترکہ سیرامکس، تخلیقی ورکشاپس، موسیقی، تھیٹر اور ڈانس فیسٹیولز شامل ہیں۔

ساتھ ہی سرنگی ریسائٹل، سیتار پرفارمنس، شاعری کے پروگرام، آرٹ اور آرکیٹیکچر کے تھیوریز پر پہلا بین الاقوامی کانفرنس، سیمینار اور سمپوزیم بھی منعقد ہو رہے ہیں۔

ویلش پرنٹ میکر سارہ ہاپکنز نے اپنے تجربات اور ورکشاپ کے عمل کے بارے میں بتایا کہ میں بنیادی طور پر اسکرین پرنٹنگ استعمال کرتی ہوں، لیکن ٹرائینالے کے لیے کچھ نیا کر رہی ہوں۔

میں اسٹینسل اور کٹ پیپر اسٹینسل کا خیال لے کر انہیں ایک نئے فارمیٹ میں منتقل کر رہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کام ایک ویلش کمبل سے متاثر ہے جو ان کے بچپن میں ان کے بستر پر تھا۔ یہ ایک روایتی ویلش کمبل ہے۔ جب میں نے اس کا اسکرین پرنٹ بنایا، تو یہ آتیف کے ساتھ تعاون کا حصہ تھا۔

انہوں نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں ایک کمبل ہے جس کا ڈیزائن کافی مشابہت رکھتا ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ کچھ نمونے ہماری ثقافتوں کو جوڑ سکتے ہیں۔

ٹیکسالی گیٹ سے ندیم عباس اپنی استاد اللہ بخش سے سیکھی گئی نایاب اور پیچیدہ مہارت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے ہارمونیم ٹرائینالے میں پیش کیے جا رہے ہیں، جو ٹیکسالی گیٹ کی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔

فنکار محمد عمران کندن جیولری کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ کبھی یہ مغل شہزادوں کے لیے بنائی جاتی تھی، آج بھی چند ماہر کاریگر ہاتھ سے کندن جیولری تیار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر زیور کو احتیاط سے بنایا، سیٹ کیا اور پالش کیا جاتا ہے، یہ عمل صبر اور مہارت کا متقاضی ہے۔ کبھی سونا استعمال ہوتا تھا، اب کانسی یا پیتل استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ روایت جاری رہے۔ ہر زیور تاریخ، ثقافت اور لگن کی کہانی سناتا ہے۔

وائس چانسلر  این سی اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری کا کہنا ہے کہ این سی اے ٹرائینالے کی میزبانی ہمارے ادارے کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ یہ موقع دنیا بھر کے فنکاروں، ڈیزائنرز اور ثقافتی ماہرین کو جمع کرتا ہے، جس سے مکالمہ، تعاون اور جدت کو فروغ ملتا ہے۔ یہ صرف ایک نمائش نہیں، بلکہ تخلیق، تبادلے اور انسانی تجربے کا جشن ہے۔

چاہے یہ مصالحوں کی خوشبو ہو جو ایک فنکار کو غزہ واپس لے جاتی ہے، یا وہ بنے ہوئے نمونے جو ویلز اور پاکستان کو جوڑتے ہیں، این سی اے ٹرائینالے ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ جہاں یادیں، ہجرت اور مادی ثقافت آپس میں ملتی ہیں۔

لاہور میں، خطے کے قدیم ترین فنون لطیفہ کے اداروں میں سے ایک کے کوریڈورز میں، ذاتی کہانیاں اور عالمی تجربات ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہاں فنکار نئے انداز میں اپنا وطن دوبارہ دریافت کرتے ہیں اور اپنی کہانیاں اجنبی جگہوں میں بھی پہچان لیتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بِمان بنگلہ دیش ایئرلائنز کی پاکستان کے لیے براہِ راست پروازیں کا آغاز 29 جنوری سے ہوگا

  خواتین اور بچوں کی نازیبا تصاویر، گروک کے خلاف دنیا بھر میں تحقیقات کا مطالبہ

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟