سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور 3 دیگر سرکاری افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام 24 مارچ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد میں ناکام رہے، جس کے تحت انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی یا ملاقات سے ذاتی انکار، مسئلہ ہے کیا؟
پی ٹی آئی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں تصدیق کی ہے کہ یہ درخواست عدالت کے حکم پر عمل نہ ہونے کے باعث دائر کی گئی ہے۔
علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ،24 مارچ کے حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی درخواست دائر
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر ذمہ داران کو توہین عدالت کی سزا دی جائے، استدعا pic.twitter.com/akExsTckBr— Azhar Mashwani (official) (@AzharMashwaniPk) November 28, 2025
پی ٹی آئی رہنما اظہر مشوانی کی جانب سے شیئر کی گئی درخواست کی نقل کے مطابق، اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم، تھانہ صدر بیرونی کے ایس ایچ او راجہ اعجاز عظیم، اور وزارتِ داخلہ و پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹریز کو فریق بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:’زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں‘، عمران خان کے بیٹے کی عالمی برادری سے اپیل
درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ 24 مارچ 2025 کے اپنے حکم پر عمل نہ کرنے پر مذکورہ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے۔
مزید یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ عدالت قانون کے مطابق متعلقہ افسران کو سزا دے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔














