عمران خان سے ملاقاتوں میں نہ سیاسی گفتگو ہو اور نہ ہی باہر آکر پریس کانفرنس ہو، رانا ثنا اللہ

جمعہ 28 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر آکر پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے نہ ملاقات میں سیاسی گفتگو ہونی چاہیے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی؟رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ اس حوالے سے پی ٹی آئی کا اپنا مؤقف ہے اور حکومت کا اپنا مؤقف ہے۔ ملاقات ہونی چاہیے لیکن ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اڈیالہ جیل سے منتقل نہیں ہوئے نہ ہی ان کی صحت خراب ہے، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں عمران خان کا پیغام ریلیز ہو، پوری دنیا اور پوری پارٹی کے لیے، سیاسی باتیں ہوں، تحریک چلانے اور جلاؤ گھیراؤ کی باتیں ہوں، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی باتیں ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح ملاقاتوں میں سیاست ڈسکس نہیں ہو سکتی۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی جیل میں بیٹھ کر قانون کے مطابق باہر تحریک چلانے کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ میں جیل میں بیٹھ کر 26 نومبر احتجاج کے لیے تحریک منظم کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت کے موجود ہونے کے باوجود ن لیگ ضمنی انتخابات جیت جاتی، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی ملاقاتوں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، صرف فیملی ممبرز کی ملاقاتیں ہوتی تھیں، اور فیملی ممبرز کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس کریں اور ٹوئٹ کے ذریعے پوری حکومت اور اداروں کو لپیٹیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ملاقاتوں کی اجازت انہی شرائط پر دی تھی کہ ملاقات کریں، میڈیا ٹاک نہ کریں اور سیاست نہ کریں، لیکن پی ٹی آئی والے یہ دونوں کام کر رہے ہیں، اس لیے انہیں روکا گیا لیکن وہ نہیں رکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان کا دھرنا ختم

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کام ہوتے ہیں تو جیل سپرنٹنڈنٹ حکومت سے پوچھے گا نہ کہ کیا تماشا کروا رہے ہو، پھر وہ ملاقاتوں پر پابندی لگائے گا۔

رانا ثنااللہ نے آخر میں کہا کہ پی ٹی آئی جیل حکام کے ساتھ ملاقاتوں کا معاملہ اٹھائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرے۔

انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال دی ہوئی تھی، عمران خان نے چیف منسٹر بھی اسی لیے بدلا تھا کہ پہلا چیف منسٹر اس بارے میں کوئی اچھا رزلٹ نہیں دے رہا تھا، انٹیلیجنس رپورٹ موجود تھیں کہ اس سال 26 نومبر کو 26 نومبر 2024 جیسا کوئی واقعہ ہوسکتا ہے، پی ٹی آئی اس کی تیاری کررہی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، اسرائیلی حملے میں کمانڈر کی شہادت پر حزب اللہ کا سخت ردعمل

ایئربس کا دنیا بھر میں اپنے ہزاروں طیاروں کی سافٹ ویئر اپڈیٹ کا حکم، فضائی آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

اسلام آباد میں شدید سردی اور خشک موسم: شہری وائرل انفیکشنز کی لپیٹ میں

تیراہ کی چرس کیوں مشہور ہے؟

پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کے لیے کیوں نہیں نکل رہے؟

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز