اسلام آباد کے بحریہ انکلیو کے قریب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رنگ اور برش سے دنیا کو نیا انداز دینے والے مسٹر عباس اپنی فنی صلاحیتوں سے ہر گزرتے ہوئے شخص کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتے ہیں۔ فنکارانہ مزاج رکھنے والے عباس کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں مصوری صرف ایک شوق نہیں بلکہ وراثت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پینا فلیکس کی جدید ٹیکنالوجی نے فن خطاطی کو کس طرح نقصان پہنچایا؟
انہوں نے تصویری فن اپنے والد اور دیگر بزرگوں سے سیکھا اور بچپن سے ہی رنگوں کے ساتھ جڑتی اس محبت کو آج تک دل سے سنبھالے رکھا ہے۔
مسٹر عباس مختلف ثقافتی مناظر، خطاطی اور نمائشی آرٹ کے ذریعے اپنی ہنرمندی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے آرٹ دکھانا کوئی شرمندگی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ کام معیاری ہو اور دیکھنے والے کو متاثر کرے۔ ان کے مطابق فن اپنی جگہ خود بناتا ہے، چاہے وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہی کیوں نہ تخلیق کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سنہرے اوراق پر کی گئی خوبصورت خطاطی
روزانہ کئی گھنٹے محنت کرنے والے مسٹر عباس نہ صرف اپنی محنت سے روزگار کماتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں اس فٹ پاتھ کو ایک خوبصورت آرٹ گیلری کا روپ بھی دیتے ہیں۔ ان کے فن نے ثابت کیا ہے کہ جذبہ راستہ خود بنا لیتا ہے۔













