ٹی20 سہ ملکی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر ٹورنامنٹ اپنے نام کرلیا ہے، قومی ٹیم نے سری لنکا کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔
یہ بھی پڑھیں: سہ ملکی سیریز: سری لنکا نے زمبابوے کو 9 وکٹوں سے ہرادیا، گیم میں اِن
راولپنڈی میں کھیلے گئے فائنل میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا کی ٹیم 19.1 اوورز میں 114 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور پاکستان کو جیت کے لیے 115 رنز کا ہدف دیا۔
🌟 TRI-SERIES WINNERS 🌟
Pakistan beat Sri Lanka by 6️⃣ wickets in the final 🏏#CricketKiJeet | #PAKvSL | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/gf2MsMyn3c
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) November 29, 2025
سری لنکا کی جانب سے کامل مشہارا 59 رنز بنا کر نمایاں رہے، کوسل مینڈس 14 اور پتھم نسانکا 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، سری لنکا کے 7 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیں: سہ ملکی سیریز، پاکستان نے زمبابوے کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنالی
پاکستان کی جانب سے محمد نواز اور شاہین آفریدی نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، ابرار احمد نے 2 اور صائم ایوب اور سلمان مرزا نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
جوابی اننگز میں پاکستان نے سری لنکا کا ہدف 18.4 اوورز میں 4 وکتوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔
Power and timing 👌
A supreme hit from Babar Azam, sailing away for a maximum! 🚀
📺 Watch live in the UK region, sign up now at https://t.co/Z0RXSR7gYM#CricketKiJeet | #PAKvSL | #BackTheBoysInGreen pic.twitter.com/T0AOw68CoX
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) November 29, 2025
پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 37 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، صائم ایوب نے 36 اور صاحبزادہ فرحان 23 رنز اسکور کیے۔ کپتان سلمان علی آغا 14 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ فخر زمان 3 اور وکٹ کیپر عثمان خان 3 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔
سری لنکا کی جانب سے ایشان ملنگا اور ونندو ہسارنگا نے ایک، ایک جبکہ پوان رتھنایک نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
یہ فتح پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوئی ہے، کیونکہ یہ ہوم گراؤنڈ پر پہلی بار کسی ٹورنامنٹ یا ملٹی ٹیم فائنل کی فتح تھی۔
محمد نواز بہترین کارکردگی کے ساتھ میچ اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار
شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کے باعث محمد نواز کو میچ کے ساتھ ساتھ سیریز کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔
محمد نواز نے فائنل کے بعد گفتگو میں کہا کہ جب ٹیم کو ضرورت ہو تو اس وقت کارکردگی دکھانا سب سے اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کوچز کے ساتھ مکمل منصوبہ بندی کرتے ہیں اور بطور اسپنر سادگی کے ساتھ گیند بازی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فنگر اسپنر ہونے کی وجہ سے زیادہ آپشنز نہیں ہوتے، اس لیے وہ میچ کی صورتحال کو پڑھ کر اسی کے مطابق بولنگ کرتے ہیں۔
بیٹنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر موقع پر یہ دیکھتے ہیں کہ ٹیم کو پارٹنرشپ درکار ہے یا جارحانہ کھیل کی ضرورت ہے، اور اسی حساب سے بیٹنگ کرتے ہیں۔
کپتان سلمان علی آغا کا ورلڈ کپ سے قبل سکواڈ پر اعتماد کا اظہار
پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ ٹیم کے لیے بہترین ثابت ہوئے ہیں جن میں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف عمدہ کارکردگی سامنے آئی۔ ان کے مطابق ٹیم نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں فارمیٹس میں تسلسل دکھایا ہے۔
سلمان علی آغا نے کہا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم اپنے 15 کھلاڑیوں کو مکمل طور پر تیار حالت میں دیکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اہم کھلاڑی کو کوئی مسئلہ پیش آئے تو ٹیم کے پاس مضبوط بیک اَپ موجود ہو، اسی لیے ہر کھلاڑی کو موقع دیا جارہا ہے۔
کپتان کا کہنا تھا کہ ٹیم تقریباً ورلڈ کپ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ابھی ٹورنامنٹ سے قبل 6 میچ باقی ہیں جن میں اگر کوئی تجربہ کرنا ہوا تو کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کی 15 رکنی فہرست تقریباً واضح ہو چکی ہے۔
پاکستان نے درمیانی اوورز میں بہترین بولنگ کے ذریعے دباؤ میں رکھا
سری لنکا کے کپتان داسن شاناکا نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے پچ سے بہتر کارکردگی کی امید کی تھی مگر پاکستان نے درمیانی اوورز میں بہترین بولنگ کے ذریعے انہیں دباؤ میں رکھا۔ کپتان کے مطابق بیٹسمینوں نے کچھ ایسے شاٹس کھیلے جن سے بچا جا سکتا تھا۔ دائیں ہاتھ کے بلے باز بائیں ہاتھ کے اسپنر کے خلاف اور بائیں ہاتھ کے بلے باز آف اسپنر کے خلاف آؤٹ ہوئے جس سے اننگز بکھر گئی۔
شاناکا نے کہا کہ اگلی سیریز سے قبل کھیل کے مختلف پہلوؤں میں مزید نکھار لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے ایایشان مشارا، پاتھم نسانکا، کوشال مینڈس، دھننجیا چمیکا، مہیش تھکشانا اور وانندو ہسارنگا کی کارکردگی کو ٹیم کے لیے مثبت پہلو قرار دیا۔
کپتان نے فیلڈنگ میں ٹیم کی نیت اور کوشش کو بھی حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ مجموعی کارکردگی میں بہتری کے امکانات موجود ہیں۔













