امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تفتیش کاروں نے ایک افغان نژاد شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بم بنانے اور ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ایک عمارت کو دھماکے سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔
ڈی ایچ ایس کی اسسٹنٹ سیکریٹری ٹریشا میک لافلن کے مطابق، محمد داؤد الوکزئی کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا بیان میں اس گرفتاری کی تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیے: وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ، نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی، مشتبہ افغان حملہ آور گرفتار
عدالتی ریکارڈ کے مطابق الوکزئی کو ریاستی سطح پر دہشت گردی کی دھمکیوں کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور وہ ٹیرنٹ کاؤنٹی کی جیل میں بند ہیں۔
الوکزئی کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک روز بعد واشنگٹن ڈی سی میں ایک اور افغان نژاد شخص رحمن اللّٰہ لکنوال نے مبینہ طور پر دو نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
حملے میں زخمی ہونے والی یو ایس آرمی اسپیشلسٹ سارہ بیک اسٹروم بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔ رحمن اللّٰہ پر اب فرسٹ ڈگری مرڈر کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ٹریشا میک لافلن نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ الوکزئی نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ بم تیار کرنے کا دعویٰ کرتا نظر آتا ہے اور اس کا ممکنہ ہدف فورٹ ورتھ کا علاقہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے: افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی خاتون نیشنل گارڈ ہلاک، غیرقانونی تارکین وطن امریکا کیلیے خطرہ بنتے جارہے ہیں، ٹرمپ
محمد الوکزئی کی گرفتاری کی بکنگ فوٹو 25 نومبر 2025 کی ہے، جو ٹیرنٹ کاؤنٹی کوریکشن سینٹر نے جاری کی۔ الوکزئی کے وکیل سے متعلق معلومات فی الحال دستیاب نہیں ہو سکیں۔
ڈی ایچ ایس عہدیدار کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے الوکزئی کے لیے ایک امیگریشن ریٹینر بھی جاری کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ اسے وفاقی حراست میں لیے جانے کا امکان ہے۔














