امریکا میں 2021 کے بعد آنے والے ہزاروں افغان مہاجرین کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق کچھ افغان مہاجرین کی پچھلی سرگرمیاں اور ممکنہ تعلقات امریکی شہریوں اور قانون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ نیشنل گارڈ پر فائرنگ، دہشتگردانہ منصوبے، اور نابالغ کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز نے امریکی حکومت کو افغان مہاجرین کے ویزا اور امیگریشن کیسز پر عارضی پابندی لگانے اور سخت نگرانی کے اقدامات کرنے پر مجبور کیا ہے۔
The number of Americans the Uniparty is willing to sacrifice to make themselves feel noble about helping the Afghans is unlimited.
Exclusive | Over 5K Afghan migrants flagged on 'national security' grounds since 2021
New York Post https://t.co/8qpGhMeSP4— Laura Ingraham (@IngrahamAngle) November 29, 2025
افغان قومی سلامتی کے لیے خطرہ
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا میں 2021 کے بعد منتقل ہونے والے افغان مہاجرین میں سے 5,005 افراد کو ’نیشنل سیکیورٹی‘ خدشات کی بنیاد پر ’نشان زد‘ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 6,868 افغان مہاجرین سے متعلق ’ممکنہ منفی معلومات‘ تھیں، جن میں سے 956 افراد پر عوامی تحفظ کے خدشات اور 876 پر فراڈ کے شبہات تھے۔ یہ معلومات امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے سینیٹر Chuck Grassley کو فراہم کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال امریکا کیسے پہنچا؟
یاد رہے کہ ان افغانوں کو امریکا میں لانے کا پروگرام ’آپریشن الائی ویلکم‘ کے تحت عمل میں آیا تھا، جو 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد شروع ہوا۔ امریکی رپورٹس کے مطابق ستمبر 2025 تک تقریباً 885 افراد پر سکیورٹی خدشات ابھی بھی برقرار تھے۔
فائرنگ اور نیشنل گارڈ اہلکار کی ہلاکت
26 نومبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی، جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا۔ حملہ آور رحمان اللہ لکنوال تھا، جو 2021 میں ’آپریشن الائی ویلکم‘ کے تحت امریکا آیا تھا۔

لکنوال کی پچھلی سرگرمیوں میں افغانستان میں امریکی CIA سے تعلق رکھنے والے ایک پارامیلیٹری یونٹ میں کام کرنا بھی شامل تھا۔ اس واقعے نے افغان مہاجرین کی ویزا اور سکریننگ کے طریقہ کار پر شدید تنقید کو جنم دیا۔
امریکی حکومت کا ردعمل
حالیہ حملے اور پچھلے ڈیٹا کی بنیاد پر امریکی حکومت نے افغان مہاجرین کے ویزا اور امیگریشن کیسز پر فوری طور پر کارروائی روک دی ہے۔ USCIS نے اعلان کیا کہ مزید جانچ اور سکیورٹی پروٹوکول کے جائزے تک افغان امیگریشن پر عارضی پابندی رہے گی۔ وفاقی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور امریکی صدر نے اس معاملے کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
DHS Secretary Kristi Noem announced that as many as 100,000 Afghans admitted during Biden’s administration are now being reassessed. pic.twitter.com/jWdEGwPWYC
— Breaking911 (@Breaking911) November 30, 2025
دیگر سیکیورٹی واقعات
اسی دوران دو افغان شہری، عبداللہ حاجی زادہ اور ناصر احمد توحیدی، ’داعش‘ سے متاثرہ منصوبے میں ملوث پائے گئے۔ ناصر احمد توحیدی نے اسپیشل امیگرینٹ ویزا کے تحت امریکا میں داخل ہو کر 2 AK-47 اسلحہ اور 500 گولیاں حاصل کیں اور بعد میں ’داعش‘ کی مدد کرنے کے جرم میں قصوروار قرار پایا، جبکہ عبداللہ حاجی زادہ کو 15 سال کی سزا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟
اسی طرح ذبیح اللہ مومند کو نابالغ کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا،متعلقہ محکمہ کی جانب سے ذبیح اللہ سمیت ایسے چند مجرموں کی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔ ڈی ایچ ایس کے مطابق ایسے کیسز پچھلے افغان پناہ گزینوں کی سکریننگ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
افغان مہاجرین کی ملک بدری
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا ہے کہ جرائم میں ملوث افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا عمل جاری رہے گا اور مزید افراد کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ افراد سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور انہیں موجودہ ہٹانے کے اختیارات کے تحت واپس بھیجا جائے گا۔ افغان حمایتی گروپس نے خبردار کیا ہے کہ انفرادی مجرمانہ کیسز کو پوری پناہ گزین کمیونٹی پر منفی تاثر ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
Zabihullah Mohmand, an Afghan national who was resettled in Montana by the Biden administration, was charged with the rape of a teenage girl in a Missoula motel room. pic.twitter.com/SCG4fXfx2J
— Homeland Security (@DHSgov) November 29, 2025
5 ہزار سے زائد افغان باشندوں کا قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونا، نیشنل گارڈ پر فائرنگ اور ہلاکت، دہشتگردانہ منصوبے اور جنسی زیادتی کے کیسز جیسے واقعات امریکا میں افغان مہاجرین کے خلاف سخت نگرانی اور امیگریشن معطلی کے فیصلوں کو تقویت دیتے ہیں اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ 2021 میں افغانستان سے انخلاء اور پناہ گزین پروگراموں کو مناسب طریقے سے ویری فائی کیا گیا یا نہیں۔













