اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات میں صدارتی معافی کی درخواست

پیر 1 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز ملک کے صدر آئیزک ہرزوگ سے اپنے طویل عرصے سے جاری بدعنوانی مقدمات میں صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست کر دی۔

نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ عدالتی کارروائیاں ان کی حکمرانی کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں اور قومی مفاد میں مقدمات کا خاتمہ ضروری ہے۔

نیتن یاہو، جو اسرائیل کے طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم ہیں، اپنے خلاف رشوت، دھوکا دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے وکلا نے صدر کے دفتر کو بھیجی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ وہ اب بھی مکمل بریت کے پُر یقین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ترکیہ نے نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

اپنی جماعت لیکود کی جانب سے جاری ایک مختصر ویڈیو بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ میرے وکلا نے آج ملک کے صدر کو معافی کی درخواست بھیجی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ جو بھی ملک کی بہتری چاہتا ہے، وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔

اپوزیشن کی مخالفت

اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے معافی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو اپنے ملوث ہونے کا اعتراف، ندامت کا اظہار اور فوری طور پر سیاست سے علیحدگی کے بغیر کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہیے۔

اسرائیل میں عمومی طور پر معافی مقدمات مکمل ہونے اور سزا سنائے جانے کے بعد دی جاتی ہے، تاہم نیتن یاہو کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ قومی مفاد کے پیش نظر صدر کارروائی کے دوران بھی معافی دے سکتے ہیں، تاکہ سماجی تقسیم کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: غزہ میں حملے کے لیے کسی سے اجازت نہیں چاہیے، نیتن یاہو کے بیان نے امن معاہدہ خطرے میں ڈال دیا

صدر ہرزوگ کے دفتر نے نیتن یاہو کی درخواست کو ‘غیر معمولی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اہم اثرات ہوں گے۔ دفتر کے مطابق، درخواست کو وزارت انصاف کے پاردنز ڈیپارٹمنٹ کو بھجوایا جائے گا، جہاں سے سفارشات تیار کر کے صدر کے قانونی مشیر کو بھیجی جائیں گی۔

حالیہ ہفتوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہرزوگ کو ایک خط لکھ کر نیتن یاہو کے حق میں معافی پر غور کرنے کی اپیل کی تھی، جسے انہوں نے سیاسی اور بے بنیاد مقدمہ قرار دیا۔

سیاسی صورتحال اور مقدمات کا پس منظر

نیتن یاہو 2019 میں تین مختلف لیکن باہم جڑے مقدمات میں بدعنوانی کے الزامات میں نامزد کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ہفتے میں 3 مرتبہ عدالت میں پیشی کا حکم دیا جاتا ہے، جو ان کی حکومتی ذمہ داریوں کے لیے ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے: نیتن یاہو نے غزہ میں ترک سیکیورٹی فورسز کے کسی بھی کردار کی مخالفت کردی

دوسری جانب، حکومتی اتحادی جماعتوں کے وزرا نے نیتن یاہو کی درخواست کی مکمل حمایت کی ہے، جبکہ اپوزیشن کی متعدد شخصیات نے وزیراعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے نیتن یاہو کی حکومت کو غزہ کی تباہ کن جنگ، ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور بین الاقوامی تنقید کے باعث شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ اور رواں سال ایران کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کون سے 6 پاکستانی کرکٹرز ’ہنڈریڈ‘ کے ٹاپ 50 ہیرو لسٹ میں شامل ہیں؟

سعودی عرب ہماری ریڈ لائن، پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، اسحاق ڈار کا بیان سعودی اکاؤنٹس پر وائرل

مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ڈھاکا سے 25 پروازیں منسوخ

چین کا امریکا سے ’ریڈ لائنز‘ برقرار رکھتے ہوئے رابطوں کے فروغ کا عندیہ

راولپنڈی: اب بغیر ہیمٹ سفر کرنے والے بائیکرز کا چالان نہیں ہوگا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے