جنگ شروع کی تو مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا، پیوٹن کی یورپ کو سخت وارننگ

بدھ 3 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی طاقتوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کی تو ماسکو لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس صورت میں یورپی ملکوں کی شکست اس قدر مکمل ہو گی کہ وہاں امن مذاکرات کے لیے کوئی باقی بھی نہیں رہے گا۔

گزشتہ 4 سال سے جاری یوکرین جنگ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے ہولناک تنازع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

جس میں روس اب تک اپنے چھوٹے ہمسائے پر مکمل قبضہ کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ یوکرین کو یورپی طاقتوں اور امریکا کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

یوکرین اور یورپی ممالک بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر پیوٹن یہ جنگ جیت گئے تو وہ نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملہ کر سکتے ہیں۔

تاہم صدر پیوٹن ایسے بیانات کو مسلسل ’بے بنیاد‘ قرار دیتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار

روسی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹس سے متعلق سوال پر کہ ہنگری کے وزیرِ خارجہ پیٹر سیجیارٹو نے کہا ہے کہ یورپ روس کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہا ہے، پیوٹن نے جواب دیا کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔

’اگر یورپ اچانک ہم سے جنگ شروع کرنا چاہے اور کر دے، تو یہ یورپ کے لیے اتنی تیزی سے ختم ہو جائے گی کہ مذاکرات کے لیے بھی کوئی نہ بچے۔‘

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ساتھ یوکرین پر ’سمجھوتے‘ طے پا گئے، روسی صدر پیوٹن کا انکشاف

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرین میں جاری کارروائی کسی ’مکمل جنگ‘ کے مترادف نہیں بلکہ ایک ’سرجیکل‘ اقدام ہے، جو یورپی طاقتوں کے ساتھ براہِ راست تصادم کی صورت میں نہیں دہرایا جائے گا۔

پیوٹن کا کہنا تھا کہ اگر یورپ ہم سے لڑنا چاہتا ہے اور آغاز کرتا ہے، تو ہم ابھی تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟

کریملن کے سربراہ نے یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں اورایسے منصوبے پیش کرتے ہیں جنہیں ماسکو کے لیے ’قطعی ناقابلِ قبول‘ بنایا جاتا ہے تاکہ بعد میں روس پر امن نہ چاہنے کا الزام لگایا جا سکے۔

صدر پیوٹن نے کہا کہ یورپی ممالک نے روس سے رابطے منقطع کر کے خود کو امن مذاکرات سے باہر کر لیا ہے، اور وہ جنگ کے فریق بن چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی کہ اگر بلیک سی میں روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ کے ٹینکروں پر ڈرون حملے جاری رہے تو روس یوکرین کی بحیرہ اسود تک رسائی ختم کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتکے وزیرخارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی کی درخواست پر اعتراضات، اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

پاکستان بنگلہ دیش ون ڈے سیریز 2026: دنیا بھر میں براہِ راست نشریات کا اعلان

لبنان میں زخمی ہمسائے کو بچانے والا مسیحی پادری اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے جاں بحق

ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کا امیر ترین شخص قرار، تاریخ کا پہلا کھرب پتی بننے کے بھی قریب

ویڈیو

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

عام موٹرسائیکل کو ای بائیک بنانے میں کتنے پیسے لگتے ہیں؟

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے