ہمارے معاشرے کے بارے میں یہ کہنا کہ کچھ بدلاؤ کی ضرورت ہے یا یہ پہلے ہی بہترین اقدار پر کھڑا ہے، تو ان دونوں باتوں میں کچھ نہ کچھ صداقت موجود ہے۔
ہمارے اسلاف نے ہمیں قدریں تو بہت عظیم دی ہیں، مگر انہیں اپنانے کے لئے جس ترغیب اور انداز کی ضرورت ہے، وہ الحمراء آرٹس کونسل نے اپنایا ہے۔ سہ روزہ الحمراء صوفی فیسٹیول صوفیانہ تعلیمات کو وقت کے ساتھ جدید انداز میں سیکھنے کا ایک متحرک طریقہ ثابت ہوا ہے۔
3 روز تک صوفی احیاء جو عمل الحمراء کے پلیٹ فارم پر دیکھنے میں آیا، اسے کے تادیر اثرات مرتب ہونگے۔ ہمارا معاشرہ اب اس فیسٹول کے تازہ جھرونکیں سے گزر کر اپنی تجدید نو کرنے کے اہل ہوجائے گا۔ مذہبی اقدار، صوفیانہ روایت، انسان دوستی، سخاوت کے جو جوہر صوفیانہ تعلیمات میں ہمیں ملتے ہیں وہ صوفی ازم کا کمال ہے۔
فیسٹیول کے منددرجات جن میں صوفی موسیقی، صوفی رقص، خطاطی کی صوفی نمائش، صوفی میوزک، صوفی ازم پر مکالمہ عوام کو صوفیاء کرام کی فکر سے جوڑ گئے اور ان کے سوچ سے ہم آہنگ کر گئے۔
صوفی اقدار کی ویلیو کے بارے میں نوجوانوں کو ایک تحریک ملی ہے۔ معاشرہ میں تبدیلی کا بیج بویا گیا ہے۔ فن،ثقافت، علم،گفتگو، مکالمہ، تخلیق کے ذریعے صوفیانہ طرز زندگی کی راہنمائی کی گئی ہے۔ ہمار ا سماج جس تبدیلی کی ضرورت کو محسوس کررہا تھا، الحمراء صوفی فیسٹول کے تناظر میں اس کی کمی کو بھرپور انداز میں پورا کیا گیا ہے۔
صوفی وراثت، روحانی سوچ، خاندانی نظام جو مضبوطی ملے ہے۔ فیسٹول نے بدلتے ہوئے وقت اور نئے عالمی تناظر میں یہ واضح کیا ہے۔ ہمیں انہی مضبوط بنیادوں پر کھڑ ے ہوکر اپنی سماجی رویوں، ادارہ جاتی نظم، تخلیقی صلاحیتوں اور فکر طرز عمل میں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
الحمراء یہ صوفی فیسٹیول کے انعقاد کی یہ کوشش معاشرتی تبدیلی کی عملی اظہار بن کا سامنے آئی ہے۔ اس فیسٹول کے بدولت ہم اپنے معاشرے کو اس کی اصل پہچان، اس کی جمالیات، اس کی روحانی روایات، اس کے اخلاقی اصولوں کے جوڑ نے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اوراب اس کی شناخت کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا پائیں گے۔
سہ روزہ الحمراء صوفی فیسٹول کے تمام سگمنٹ عالمی پروڈکشن کے مطابق تھے، تمام معیارات کو برؤے کا لایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے فیسٹیول معاشرتی فکری، اخلاقی اور روحانی تعمیر وترقی کا باعث بنا ہے، جس کے اثرات آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
یہ فیسٹیول ایک اور گہرے سوال کا جواب دے گیا ہے کہ صوفیاء کرام نے اپنی زندگیوں میں جو نصیحت کی تھی الحمراء نے ان کے اس کہے کو اپنایا ہے۔ اور صوفیانہ تعلیمات کے پھیلاؤ کا طریقہ اپنایا وہ موثر ثابت ہوا، جس کا ثبوت ہزاروں کی تعداد میں عوام کا فیسٹیول میں شرکت کرنا ہے۔
صوفیاء کرام کے تعلیمات کے مطابق الحمراء نے پیار و محبت کی محفلیں بپا رکھی ہیں، جہاں امن و سلامتی کا پرچار ہو رہا ہے جو فردو سماج کی روحانی شعور کا موجب ہیں۔ الحمراء نے صوفیاء کرام کے طریقہ کو زندہ رکھا اور اسے نئی نسل تک پہنچا یا ہے۔
الحمراء صوفی فیسٹول کے لینز سے نوجوانوں نے صوفی ازم کا مشاہد ہ کیا ہے، اسے سنا، جانا اور اس پر سوچنے کا انداز اپنایا ہےSufi Experiental Learning Modal سے عوام بے پناہ متاثر ہوئے ہیں۔
الحمراء صوفی فیسٹول نے بتایا ہے کہ صوفی ازم کامیایبوں کا تھنک ٹینک ہے۔ صوفی از م ماڈرن ازم کے بالکل قریب ہے۔ آج کے معاشرہ کو صوفی ازم کی لرننگ کی اشد ضرورت ہے۔ الحمراء صوفی فیسٹول ایک ’صوفیانہ تربیتی ماڈل تھا‘۔
جہاں صوفی ازم کا مکمل پرچار تھا۔ یہ فیسٹیول قیادت کی فکر، زاویے، سوچ ا ور نقطہ نظر کا پتہ دیتا ہے کہ الحمراء کسی قیادت کے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد محبوب عالم چوہدری نے Sufi Intellectual Perspective کے حامل آفیسر ہے۔ قیادت نے اس فیسٹیول کوصوفیانہ وژنری فریم ورک کے تحت ترتیب دیا، جہاں ہر سرگرمی کو اعلی بصیرتوں سے سجایا گیا ہے۔
الحمراء آرٹس کونسل نے صوفی فیسٹیول کی صورت خو د کو ایک ’صوفیانہ ثقافتی خانقاہ‘ ثابت کیا ہے۔ اس فیسٹیول میں کب، کہاں اور کیسے رویوں میں تبدیلی محسوس کی جائے گی کے سوال میں یہ کہا جائے تو بے جاء نہ ہوگا کہ وقت کے ساتھ ساتھ رویوں میں نرمی، برداشت، سوچ میں گہرائی، اجتماتی مزاج میں مثبتیت کی صورت میں سامنے آئے گی۔
ثقافتی جمالیات اور سماجی حسیت میں اضافہ ہوگا۔ معاشرہ اپنا وقار، عظمت اور اپنی قدر بحال ہوتی دیکھے گا۔ جدید تکنیک، جدتِ فکر اور وسیع البنیاد میڈیا کے صوفی فیسٹول تاریخ کے پنے پر ایک عظیم فتح کی صورت اختیار کر کے ابھرا ہے۔
الحمراء صوفی فیسٹول کی عظمتوں کا اظہار آئندہ بھی اسی جوش وخروش سے کیا جا تا رہے گا۔ جو عوام کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے۔ انشاء اللہ
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














