اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے’فلسطین کے مسئلے کے پرامن حل‘ کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں اسرائیل سے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عروہ حنین آکسفورڈ یونین کی پہلی فلسطینی صدر منتخب
ترکیہ کی انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ مسودہ قرارداد جبوتی، اردن، موریتانیہ، قطر، سینیگال اور فلسطین کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے 151 ووٹوں کی حمایت، 11 کے مخالفت اور 11 ممتنع رائے کے ساتھ منظور کیا گیا۔
قرارداد کے اہم نکات
قرارداد میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے ذمہ داری برقرار ہے۔
سنہ 1967 کے بعد کی اسرائیل کی جانب سے کیا گیا زمین پر قبضہ ختم کیا جائے اور 2 ریاستی حل کو برقرار رکھا جائے۔
مزید پڑھیے: صدر اور وزیراعظم پاکستان کا عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین پر مشترکہ اظہارِ حمایت
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل آبادکاری کی سرگرمیوں کو روکے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے۔
مزید سفارشات
قرارداد میں تجدید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا اور ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ سرحدی تبدیلیوں کو تسلیم نہ کریں۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ: پاکستان کا مقبوضہ فلسطین میں سنگین صورتحال پر اظہارِ تشویش
علاوہ ازیں شدید انسانی بحران کے پیش نظر فلسطینیوں کی امداد بڑھانے کی بھی ہدایت دی گئی۔













