فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی طالبہ عروہ حنین الرئیس کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے زیر انتظام آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونی افواج کے ہاتھوں ماری جانے والی 10 سالہ راشا کی وصیت پر من و عن عمل کیوں نہ ہوسکا؟
عروہ ٹرِنٹی ٹرم 2026 (اپریل سے جون) کے دوران اس عہدے پر فائز رہیں گی۔ یہ سنہ 1823 میں قائم ہونے والی آکسفورڈ یونین کی 202 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی فلسطینی طالبہ نے یہ اعزاز حاصل کیا ہو۔
ان کے والد، محمد الرییس نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کی بیٹی پہلی عرب خاتون، فلسطینی اور الجزائری ہیں جو اس عہدے پر منتخب ہوئی ہیں۔
انتخابی مقابلہ اور ووٹوں کی تفصیلات
انتخابی مقابلہ سخت تھا اور عروہ نے 757 ووٹ حاصل کیے جو رنراپ لیزا بارکوا سے 155 ووٹ زیادہ تھے۔
آکسفورڈ یونین کی اہمیت
آکسفورڈ یونین دنیا کی معروف طلبہ زیر انتظام مباحثہ سوسائٹیز میں سے ایک ہے۔ یہ عالمی اہمیت کے معاملات پر اعلیٰ سطح کے مباحثے کے انعقاد کے لیے مشہور ہے جیسے حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات پر مباحثے میں بھارتی وفد کے اچانک انخلا کے بعد پاکستانی ٹیم کی جیت۔
صدر کے منشور اور ترجیحات
عروہ نے صدر بننے کے لیے اس پلیٹ فارم پر انتخاب لڑا کہ یونین کی اندرونی سیاست کو مباحثوں سے الگ کیا جائے۔
مزید پڑھیے: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟
انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرم میں گورننس کے مسائل یونین کے اصل مباحثوں پر حاوی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یونین ایک نہایت خاص جگہ ہے جو مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں شفاف گورننس، مالی ذمے داری اور آزادی اظہار کے آخری قلعے کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک نیا آغاز کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: غزہ: بچے خاندان کے مرحومین کے پاس جانے کی ضد کیوں کرنے لگے؟
عروہ کی حریف بارکوا نے کہا کہ یونین کو خصوصاً مباحثوں سے اسپیکرز کے اچانک انخلا کے مسائل کے پیش نظر اپنی ساکھ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
سماجی و سیاسی سرگرمیاں
عروہ نے یونین کے کام کے علاوہ ڈاکومنٹری ’ہارٹ آف اے پروٹیسٹ‘ میں بھی حصہ لیا تھا جو برطانیہ میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کی اندرونی جھلک پیش کرتی ہے۔
یونین میں داخلی سیاست کی کشیدگی، پاکستانی صدر کے ساتھ مسائل
آکسفورڈ یونین میں داخلی سیاست بھی کشیدہ رہی ہے جہاں سابق صدور جارج آباراونیے اور موسیٰ حراج کو عدم اعتماد کے ووٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
موسیٰ حراج، جو پاکستانی ہیں، سنہ 2024 میں منتخب ہونے والے اسرار خان کے بعد ایک سال کے اندر دوسرے پاکستانی طالب علم صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
پاکستانی نمائندگی برقرار
پاکستان کی نمائندگی یونین کے اعلیٰ عہدوں میں جاری ہے جس میں ایچیسن کالج کے فارغ التحصیل شاہمیر عزیز سیکریٹری کمیٹی کے رکن ہیں۔














