روسی صدر پیوٹن کا دورہ بھارت، کن اہم معاملات پر گفتگو ہوگی؟

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا اس ہفتے بھارت کا دورہ نئی دہلی کی سفارت کاری کا ایک اہم موڑ بنتا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک تبدیل ہوتے عالمی ماحول اور مغربی دباؤ کے بڑھنے کے تناظر میں دفاعی اور توانائی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں۔

پیوٹن جمعرات کو 23ویں بھارت روس سالانہ سربراہ اجلاس کے لیے نئی دہلی پہنچیں گے۔ یہ ان کا 2021 کے بعد اور یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد پہلا دورہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی تیل کے معاملے پر واشنگٹن اور دہلی کے درمیان ابہام برقرار

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ 2 روزہ دورہ بھارت کی اس کوشش کا امتحان ہے کہ وہ ماسکو کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو کس طرح برقرار رکھتا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں واشنگٹن کی جانب سے بڑھتے دباؤ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔

دونوں ممالک دفاع، توانائی، جوہری تعاون، ادائیگی کے طریقۂ کار، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت ایک ’جامع ایجنڈے‘ پر بات چیت کریں گے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ 2025 میں بھارت کے لیے سب سے اہم ہے۔ یہ ایک ایسے ملک کا بھرپور دورہ ہے جس نے روایتی طور پر بھارت کے ساتھ دوستی رکھی ہے، اور ایسے وقت میں جب دنیا انتہائی اہم تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: روس کی پاک بھارت اور پاک افغان تنازعات میں ثالثی کی پیشکش

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کو اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی سزاؤں کے دباؤ کے باوجود اپنے ’خصوصی تعلقات‘ کی توثیق کر سکیں، صدر پیوٹن کا دورہ بھارت کی روس پالیسی میں ایک نسبتاً مستحکم مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

دفاع اور اسٹریٹجک معاہدے

سربراہ اجلاس کا محور دفاع ہوگا، جہاں بھارت S-400 فضائی دفاعی نظام اور ممکنہ طور پر سوخوئی SU-57 لڑاکا طیاروں کی خریداری پر پیش رفت چاہتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دفاع بھارت کے لیے اس وقت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مئی میں پاکستان کے ساتھ حالیہ مختصر مسلح جھڑپ سے بہت سے سبق سیکھے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماسکو بھارت کو پانچویں نسل کے طیارے، پروڈکشن لائنز، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی پابندیوں کا شاخسانہ، روسی نیفتھا بردار جہاز بھارتی ساحل پر پھنس گیا

سربراہ اجلاس سے قبل روس نے باہمی لاجسٹک تعاون کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت دونوں ملک ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات تک ایندھن کی فراہمی، مرمت اور سپلائی کی غرض سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ روس کی بحرِ ہند پر بڑھتی توجہ کی علامت ہے، اور بھارت کو بھی روس کی آرکٹک اور ناردرن سی روٹ سرگرمیوں تک رسائی مل سکتی ہے۔

توانائی، جوہری تعاون اور تجارت

جدید عالمی دباؤ کے درمیان بھارت اور روس کے توانائی تعلقات بھی اس دورے کا اہم حصہ ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی دہلی پر روسی تیل کی خریداری روکنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یہ دورہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ بھارت جلد ہی روسی تیل خریدنا بند کر دے گا، جس کی دہلی نے تصدیق نہیں کی۔

مزید پڑھیں: امریکا نے بھارت کا چاہ بہار منصوبہ مشکل میں ڈال دیا، استثنیٰ ختم

بھارتی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور یہ کہ درآمدی فیصلے بھارتی صارف کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

روس اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تیل سپلائر ہے، اگرچہ امریکی پابندیوں کے بعد خریداری میں کمی آئی ہے، انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق بھارت روسی خام تیل کا آسانی سے متبادل نہیں ڈھونڈ سکتا۔

جوہری تعاون بھی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ روس تامل ناڈو میں کڈنکلم نیوکلیئر پاور پلانٹ کے متعدد یونٹس تعمیر کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:مودی پر شدید تنقید کے بعد ٹرمپ کا یوٹرن، بھارت سے تجارتی مذاکرات کا اعلان

تجارت بھی ایک کلیدی موضوع ہوگا، دونوں ممالک 2030 تک باہمی تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

2024-25 میں تجارت 68.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، جو وبا سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 6 گنا زیادہ ہے۔

یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت بھی متوقع ہے، جبکہ ٹیکنالوجی اورمصنوعی ذہانت میں تعاون بھی زیر بحث ہوگا۔

مغرب کے لیے عالمی پیغام

میڈیا رپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی خودمختاری کا اظہار بھی ہے، کیونکہ بھارت کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری دکھانا اہم ہے۔

روس بھارت کو ایک برابر کے پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے اور یہ دورہ یورپ اور امریکا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دباؤ کے باوجود نئی دہلی اورماسکو سیکیورٹی، توانائی اور کثیرالجہتی فورمزمیں تعاون جاری رکھیں گے۔

مزید پڑھیں: روسی تیل کی خریداری، ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر مزید دباؤ کا اشارہ

’پیوٹن یہ بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ روس، پابندیوں کے باوجود، بھارت کے ساتھ معاشی خصوصاً توانائی کا تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نہ بھارت اور نہ ہی روس اس دورے کو مغرب کے خلاف کوئی پیغام بنانا چاہتے ہیں۔

اس ضمن میں ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ بھارت حال ہی میں امریکا کے ساتھ 10 سالہ دفاعی فریم ورک پر دستخط کر چکا ہے، جو اسے طویل مدتی حکمتِ عملی کے لیے واشنگٹن کے قریب لاتا ہے۔

مزید پڑھیں: چین اور روس کو سلامتی و ترقی کے مشترکہ مفادات کا دفاع کرنا چاہیے، شی جن پنگ

یہی وجہ ہے کہ خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھارت اب واضح طور پر امریکا کا شراکت دار ہے، روس کا نہیں، تاہم 2026 میں بھارت کی برکس کی صدارت کے پیش نظر روس اور چین دونوں کے ساتھ تعمیری تعلقات ضروری ہوں گے۔

پیوٹن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یوکرین امن منصوبے پر امریکا اور روس کے مذاکرات تیز ہو چکے ہیں، ایک ایسا پس منظر جسے مودی اور پیوٹن نظرانداز نہیں کر سکتے۔

امریکی تجاویز کو مثبت نظر سے دیکھتے ہوئے بھارت چاہتا ہے کہ جنگ رکے، کیونکہ وہ روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنا چاہتا ہے اور ضمنی پابندیوں سے بھی بچنا چاہتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!