ملکی اور عالمی منڈی میں حلال خوراک کی فراہمی کا گیم چینجر منصوبہ

جمعرات 4 دسمبر 2025
author image

سیدہ ادیبہ حسین

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی گیم چینجر منصوبہ ہے، جس کا مقصد صحت مند اور حلال خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ حلال مصنوعات کی تجارت، برآمدات کو فروغ دینا اورفوڈ انڈسٹری میںمصنوعات کے لیے حلا ل سر ٹیفکیٹ اور لائسنس کا اجرا کرنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

دور حاضرکا بغور جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ امریکا، یورپ، اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا حلال مصنوعات کی جانب تیزی سے راغب ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان سے حلال مصنوعات کی برآمدات کو ممکن بنایا جائے، تاکہ عالمی منڈی میں حلال مصنوعات کی تجارت کے نئے دروازے کھلیں سکیں۔

ادارے کے پس منظر کا جائزہ لیں تو جولائی 2022 میں حکومت پنجاب نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کو پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کی ذمہ داریاں سونپیں، تاکہ فوڈ سیفٹی آفیسر فوڈ پراڈکٹس میں استعمال ہونے والے اجزا حلال یا حرام کی جانچ پڑتال کر سکیں۔

پی ایچ ڈی اے کا یہ اہم شعبہ کافی عرصے سے بحران کا شکاررہا۔ ادارے کو شدید مالیاتی ، انتظامی اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا تھا، جس نے اس کی کارکردگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی معاشی طاقت کی صلاحیت رکھنے والی ایجنسی صرف 40 سے 50 کلائنٹس کو ہی حلال خوراک کا سرٹیفکیٹ دے پائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے کی یہ محدود کارکردگی بین الاقوامی معیار جیسے جے اے کے آئی ایم پر موثر طریقے سے پورا نہیں اتر سکتی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پی ایچ ڈی اے کی استعداد میں سب بڑ ی عملی رکاوٹ مالیاتی خود مختاری کا فقدان ہے۔ جس کے بینک اکاونٹس پر اب بھی پرانے لائیو اسٹاک محکمہ کے دستخطی اختیارات ہیں۔

یہ معاملہ فیصلہ سازی اور آپریشنل رفتار کے راستے میں حائل تھا۔ ان غیر فعال انتظامی خامیوں کے باعث حلال اشیا کا فروغ اور نفاذ کا نظام کمزور پڑ چکا تھا جس کی وجہ سے 3 ہزار ارب ڈالر کی حلال معیشت میں پاکستان اپنا حصہ حاصل کرنے سے قاصر تھا۔

یہ مسئلہ صرف ایک ادارے کا نہیں، بلکہ قومی معیشت کے لیے ایک ضائع شدہ موقع تھا۔ ایسے جمود زدہ اور بحرانی حالات میں، پنجاب فوڈ اتھارٹی موثر حل لے کر سامنے آئی۔

ڈی جی عاصم جاوید کی قائدانہ بصیرت اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے انہیں پی ایچ ڈی اے کا اضافی چارج تفویض کیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس پہلے ہی ایک مضبوط ریگولیٹری اتھارٹی، تربیت یافتہ عملہ، عالمی معیار کے مطابق ایس او پیز اور ٹیم کا فریم ورک موجود ہے۔

اس اضافی ذمہ داری کا ایک فوری فائدہ یہ ہوا کہ فو ڈ اتھارٹی کے سیفٹی آفیسرز کو انسپکٹرز کے اختیارات مل گئے، جس نے حلال معیار کے نفاد اور نگرانی کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا۔

اب ڈی جی عاصم جاوید کی سربراہی میں فیصلہ کن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے مالیاتی زنجیریں توڑنے کے لیے وائلڈ لائف کے بینک دستخطی اختیارات کو ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ایڈیشنل سیکرٹری کے حوالے کیا جائے۔

حلال سرٹیفکیشن اور لائسنسنگ کے عمل کو شفاف اور تیز بنانے کے لیے ایک جدید آئی ٹی پورٹل تیار کیا جا رہا ہے۔ عملے کی مستقل بھرتی مکمل ہونے تک عالمی معیار کے مطابق کوالیفائیڈ آﺅٹ سورس آڈیٹر اور شریعہ اور ٹیکینکل ماہرین کی صورت میں خدمات حاصل کی جائیں گی، تاکہ تعطل کا کام فوری شروع ہو سکے۔

یہ جامع اور قائدانہ اصلاحات نہ صرف پی ایچ ڈی اے کے دیرینہ مسائل کا خاتمہ کریں گی، بلکہ آمدن کے نئے ذرائع حاصل ہوں گے۔ ڈی جی عاصم جاوید کی قیادت میں اب یہ ادارہ ایک مضبوط اور فعال نظام کے زیر سایہ آ چکا ہے جو حلال سیکٹر میںپاکستان کا معیار اور ساکھ کو مضبوط کرے گا اور بالآخر پاکستان کو عالمی منڈی میں اپنا جائز مقام دلانے میں کامیاب ہوسکے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟