امریکی وزیرِ ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی سفری پابندیوں کی فہرست میں شامل ممالک کی تعداد کو 30 سے زیادہ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
فوکس نیوز کے پروگرام میں انٹرویو کے دوران کرسٹی نوم سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سفری پابندیوں کی فہرست کو 32 ممالک تک بڑھانے جا رہی ہے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ مخصوص تعداد نہیں بتائیں گی، لیکن یہ 30 سے زائد ہے اور صدر مختلف ممالک کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا تمام تیسری دنیا کے ممالک سے امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
رواں برس جون میں صدر ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور 7 دیگر ممالک کے شہریوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
.@Sec_Noem confirms the expanded travel ban will be "over 30" countries: "The President is continuing to evaluate countries." pic.twitter.com/W7h7TQVOHe
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) December 5, 2025
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات ’غیر ملکی دہشت گردوں‘ اور دیگر سیکیورٹی خدشات سے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں۔ یہ پابندیاں تارکینِ وطن کے ساتھ ساتھ غیر تارکین وطن، جیسے سیاح، طلبہ اور کاروباری مسافر، سب پر لاگو ہوتی ہیں۔
کرسٹی نوم نے یہ واضح نہیں کیا کہ فہرست میں مزید کن ممالک کے نام شامل کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: تیسری دنیا کے شہریوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی: پاکستانی کس حد تک متاثر ہوں گے؟
’اگر کسی ملک میں مستحکم حکومت نہیں ہے، اگر وہ اپنے شہریوں کی شناخت اور ان کی جانچ پڑتال کے لیے ہماری مدد نہیں کر سکتا، تو پھر ہم ایسے ملک کے لوگوں کو امریکا کیوں آنے دیں۔‘
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ایک اندرونی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کیبل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 36 مزید ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کی پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا: افغان کمیونٹی میں غیریقینی صورتحال، ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں نے مشکلات بڑھا دیں
فہرست میں توسیع گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی فائرنگ کے بعد انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے سخت اقدامات میں مزید اضافہ ہو گی، اس واقعے میں 2 نیشنل گارڈ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک افغان شہری نے کیا تھا جو 2021 میں امریکا میں ایک آبادکاری پروگرام کے تحت داخل ہوا تھا، جس کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس میں جانچ پڑتال ناکافی تھی۔
فائرنگ کے چند روز بعد ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ تیسری دنیا کے تمام ممالک سے ہجرت کو مستقل طور پر روک دیں گے، تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ ہی ’تیسری دنیا‘ کی تعریف کی۔
اس سے پہلے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت منظور شدہ پناہ گزینوں کے کیسز اور 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کی گئی گرین کارڈز کی جامع نظرثانی کا حکم دیا ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا نے میانمار کے شہریوں کے لیے عارضی قانونی اسٹیٹس ختم کر دیا
جنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد، صدر ٹرمپ نے امیگریشن نافذ کرنے کو ترجیح بناتے ہوئے وفاقی ایجنٹس کو امریکی شہروں میں تعینات کیا اور امریکا میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس لوٹایا ہے۔
انتظامیہ اکثر ملک بدری کے اقدامات کو اجاگر کرتی رہی ہے، تاہم اب تک قانونی امیگریشن کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں پر نسبتاً کم توجہ دی گئی تھی۔














