یوکرین ڈائیونگ فیڈریشن نے اپنی ڈائیور صوفیہ لِسکُن سے تمام میڈلز اور ایوارڈز واپس لے لیے ہیں، کیونکہ انہوں نے روس کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹوکیو اولمپکس 2020 اور گزشتہ سال پیرس گیمز میں یوکرین کی نمائندگی کرنے والی صوفیہ لسکن نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک روسی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی وفاداری بدلنے کا انکشاف کیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس پر پابندی لگی تھی تو اسرائیل پر کیوں نہیں؟ قانونی ماہرین کا اسرائیلی فٹ بالز کلبز پر پابندی کا مطالبہ
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ صوفیہ لسکن نے روسی شہریت اختیار کرنے کے فیصلے سے نہ تو فیڈریشن، نہ کوچنگ اسٹاف اور نہ ہی یوکرین کی وزارتِ کھیل کو آگاہ کیا۔
https://Twitter.com/BrusselsMorning/status/1996926887562527053
فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
’یہ نہ صرف ایک کھلاڑی کو بدنام کرتے ہیں بلکہ پوری یوکرینی ٹیم کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، جو روزانہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کے حق کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔‘
یوکرین ڈائیونگ فیڈریشن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو بین الاقوامی اسپورٹس اداروں کے سامنے بھی اٹھائے گی، تاکہ موجودہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کھلاڑی پر ’اسپورٹس قرنطینہ‘ کا اصول نافذ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: یورپی خدشات کے باوجود یوکرین کا امریکی امن منصوبے پر آمادگی کا اظہار
صوفیہ لسکن نے گزشتہ سال بیلگریڈ میں ہونے والی یورپی ایکواٹکس چیمپیئن شپ میں کثینیہ بائیلو کے ساتھ 10 میٹر سنکرونائزڈ ڈائیونگ میں گولڈ میڈل جیتا تھا، جبکہ 2018 میں گلاسگو میں ٹیم ایونٹ میں بھی سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 سالہ صوفیہ لسکن نے روس جانے کا فیصلہ کھیل میں اپنی ترقی کے خدشات کی بنا پر کیا گیا، کیونکہ یوکرین میں تمام کوچ جمناسٹ یا ٹرامپولین سے تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ جب کوئی مکمل طور پر مختلف شعبے سے ہو تو وہ آپ کو کیا سکھائے گا۔ ’گزشتہ چند سالوں میں یوکرین میں کھیل کے دوران مجھے لگا کہ میری ترقی رک گئی ہے۔‘
واضح رہے کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد روسی اور بیلاروسی کھلاڑیوں پر ورلڈ ایکواٹکس ایونٹس میں شرکت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
تاہم بعض ایتھلیٹس کو پابندیوں میں نرمی کے بعد پیرس اولمپکس میں غیر جانبدار حیثیت میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔














