امریکی جریدے فارِن پالیسی نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی سفارتی پوزیشن کو غیر معمولی طور پر مضبوط بنایا۔
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد نے مؤثر اور مربوط سفارتی حکمتِ عملی کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے ساتھ ایسی قربت حاصل کی جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پسندیدہ فیلڈ مارشل سے نئی دوستی تک، پاکستان نے امریکا کا دل جیت لیا
فارِن پالیسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ قریبی ذاتی تعلقات قائم کیے اور دونوں رہنماؤں کو متعدد بار وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا، جسے ماہرین ایک غیر معمولی سطح کی رسائی قرار دیتے ہیں۔
🇵🇰🇺🇸🧵Pakistan is resetting its relationship with Washington by positioning itself as a future supplier of critical minerals. Army Chief Asim Munir convinced President Trump that Pakistan could support US resource security at a time when China controls most of the supply chain. pic.twitter.com/mRAxfWjQlO
— The Geopolitical Desk (@thegeopoldesk) December 7, 2025
رپورٹ کے مطابق 2021 کے کابل دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے فیصلہ کن کردار نے ابتدائی طور پر واشنگٹن کا اعتماد حاصل کیا، اسلام آباد کی بروقت تعاون، تعلقات سازی اور تعریف پر مبنی حکمتِ عملی نے ٹرمپ انتظامیہ میں پاکستان کے بارے میں تاثرکونمایاں طورپرتبدیل کیا۔
فارِن پالیسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ سے منسلک لابنگ نیٹ ورکس میں بھرپور سرمایہ کاری کی، جبکہ کرپٹو کرنسی، کریٹیکل منرلزاوراسٹریٹیجک صنعتوں جیسے شعبوں میں امریکی پالیسی سازوں کے ساتھ فعال رابطہ رکھا۔
مزید پڑھیں: ٹیرف وار: کیا چین براستہ پاکستان امریکا سے تجارت کر سکتا ہے؟
کریٹیکل منرلز کے شعبے میں بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور یو ایس اسٹریٹجک میٹلز کے درمیان 500 ملین ڈالر کا معاہدہ طے پایا، جبکہ ریکو ڈِک منصوبے میں بھی نئی پیش رفت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ریکو ڈک کی بحالی نے عالمی منڈیوں کو پیغام دیا کہ پاکستان مغربی سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد ملک ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جدید اور شفاف کرپٹو فریم ورک تیار کیا، جس سے امریکی اداروں خصوصاً پاکستان کرپٹو کونسل اورورلڈ لیبرٹی فائنانشل کے ساتھ تعاون میں تیزی آئی، توانائی، انسدادِ دہشت گردی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں میں بھی دو طرفہ تعاون وسیع ہوا۔
فارِن پالیسی کے مطابق اس دور میں بھارت کے ساتھ صدر ٹرمپ کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے، جن کی وجہ ٹیرف تنازعات، روسی تیل کی سستی خریداری اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی پراختلافات تھے، پاکستان نے مئی کے فائربندی معاہدے میں ٹرمپ کی ثالثی کا کریڈٹ دیا، جسے نئی دہلی نے مسترد کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
لیکن اس واقعے نے واشنگٹن میں پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط کی، امریکی رویہ پاکستان کے لیے نرم جبکہ بھارت کے لیے نمایاں طور پر سخت ہوتا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن کو واضح پیغام دیا کہ دوطرفہ تعلقات کو چین، بھارت یا افغانستان کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اپنی اصل اہمیت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے، صدر ٹرمپ خطے کے استحکام، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے پاکستان کو اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون سمجھتے تھے۔

فارِن پالیسی کے تجزیے کے مطابق، کریٹیکل منرلز سپلائی چین، خطے کے امن اور عالمی توانائی توازن میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔
امریکا کا پاکستان سے برتاؤ نرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اسلام آباد کی تذویراتی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے، اگرچہ بڑے پیمانے پر فوجی یا معاشی امداد کے امکانات اب بھی محدود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے مؤثر قیادت، وژن اور جامع سفارتی پیش قدمیوں کے ذریعے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔














