یورپی کمیشن نے گوگل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے کیونکہ کمپنی کی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی سمریز سرچ نتائج کے ٹاپ پر ظاہر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ: گوگل کے ہاتھوں چیٹ جی پی ٹی کی برتری خطرے میں
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمیشن جانچ کرے گا کہ آیا گوگل نے ویب سائٹس کے مواد کو اپنی اے آئی خدمات کے لیے استعمال کیا اور کیا اس نے پبلشرز کو مناسب معاوضہ دیا یا نہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ یوٹیوب ویڈیوز کو کمپنی کے اے آئی سسٹمز کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا اور کیا مواد بنانے والوں کو اس سے انکار کرنے کا موقع ملا یا نہیں۔
گوگل کا مؤقف
گوگل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات جدت کو روکنے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں اور لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اے آئی سمریز کے اثرات
گوگل کے اے آئی اوورویو فیچر کے بعد ویب سائٹس پر آنے والے وزٹرز کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔
مثال کے طور پر ڈیلی میل کے مطابق اس کے لنکس پر کلکس تقریباً 50 فیصد کم ہو گئے۔
مزید پڑھیے: گوگل کا نیا امیج جنریشن ماڈل لانچ، کیا اب اصل نقل کی پہچان ناممکن ہوجائے گی؟
کمیشن کا کہنا ہے کہ پبلشرز اور یوٹیوب کریئیٹرز کو اپنے مواد کے استعمال پر کنٹرول یا معاوضہ نہیں ملا جس سے ان کے حقوق اور روزگار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اے آئی ماہرین نے خبردار کیا کہ لوگ اگر آن لائن مواد شائع نہ کریں تو وہ کریئر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ گوگل کا سسٹم ان کا مواد اپنی اے آئی ٹولز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
تربیت اور اے آئی کی صلاحیتیں
گوگل کے جنریٹو اے آئی سسٹمز چند سیکنڈز میں متن، تصاویر اور ویڈیوز تیار کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گارجیئن رپورٹ: اسرائیل مکروہ ہتھکنڈوں کے لیے گوگل اور ایمیزون کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟
متعدد کمپنیوں نے اپنی اے آئی تربیت کے لیے آن لائن مواد کا استعمال کیا لیکن کریئیٹرز کو خدشہ ہے کہ ان کا کام بڑے ٹیک اداروں کے اے آئی پروڈکٹس میں استعمال ہو رہا ہے اور انہیں اس کا فائدہ نہیں مل رہا۔
یورپی کمیشن کا مؤقف
کمیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر تیرسا ریبیرا نے کہا کہ اے آئی جدت اور فائدے لے کر آ رہا ہے لیکن یہ یورپی اقدار اور جمہوریت پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔














