بھارتی گووا کے شہر اَڑپورا کے ایک نائٹ کلب میں جان لیوا آتشزدگی کے واقعے میں کلب کے 4 مالکان میں سے ایک کو دہلی سے گرفتار کرلیا ہے۔
سیاحتی مقام پر واقع نائٹ کلب ’برچ بائے رومیو لین‘ میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہولناک آتشزدگی میں غیرملکیوں سمیت کم از کم 25 افراد کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے اس سلسلے میں گووا پولیس نے منگل کے روز نائٹ کلب کے مشترکہ مالکان میں سے ایک اجے گپتا کو حراست میں لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کے نائٹ کلب میں خوفناک آتشزدگی، غیرملکیوں سمیت 23 افراد ہلاک
گووا کے وزیر اعلیٰ پرمود سوانت نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
پولیس نے ابتدائی شبہ ظاہر کیا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر کسی سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں لگی، اگرچہ حتمی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
My condolences to the families of the 23 souls who lost their lives in a cylinder blast at a night club in Goa, and my prayers for the speedy recovery of those who are injured.
Why are fire safety measures not being strictly implemented, and why do such incidents continue to… pic.twitter.com/IDm7RDhZXN
— Dr. Shama Mohamed (@drshamamohd) December 7, 2025
پولیس کے مطابق نائٹ کلب کے مالک اجے گپتا کے خلاف کچھ روز قبل ہی لک آؤٹ سرکولر جاری کیا گیا تھا کیونکہ دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپے کے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے۔
بعد ازاں انہیں قومی دارالحکومت میں تلاش کر کے حراست میں لیا گیا۔
مزید پڑھیں: راجھستان: مسافر بس میں خوفناک آتشزدگی، 21 افراد جاں بحق، 16 زخمی
ترجمان کے مطابق یہ اس کیس میں حراست میں لیے جانے والا چھٹا شخص ہے اور تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کر کے گووا منتقل کیا جائے گا۔
نائٹ کلب کے دیگر 2 مالک، سوربھ لوتھرا اور گورو لوتھرا، ابھی تک مفرور ہیں اور پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے بلو کارنر نوٹس جاری کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی شہر اندور کے مندر میں حادثہ، 35 افراد ہلاک
واقعے کے بعد اب تک جن افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ان میں نائٹ کلب کا چیف جنرل مینیجر راجیو موڈک، جنرل مینیجر ویوک سنگھ، بار مینیجر راجیو سنگھانیہ، گیٹ مینیجر ریانشو ٹھاکر اور ایک ملازم بھارت کوہلی شامل ہیں۔
بھارت میں گزشتہ برسوں کے دوران آتشزدگی کے ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جن کی بنیادی وجہ ناقص تعمیرات، کھچاکھچ بھرے مقامات اور حفاظتی ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں بتائی جاتی ہیں۔













