’عمران خان اور بشریٰ بی بی کو غیر انسانی کارروائیوں کا سامنا ہے‘

بدھ 10 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف نے عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تو انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہی ہے، لیکن پاکستان میں یہ دن ایسے وقت آیا ہے جب موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سالہ دور میں انسانی حقوق کی پامالی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق آئین میں درج بنیادی حقوق کو دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی

پی ٹی آئی کے مطابق پاکستان کا آئین شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے، مگر موجودہ دورِ حکومت میں بنیادی انسانی حقوق کو منظم طریقے سے پامال کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال آئینی روح کے منافی ہے۔

عمران خان اور قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام

تحریک انصاف نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کو تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی تک کو غیر انسانی کارروائیوں  کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں:اڈیالہ میں طبی معائنہ، عمران خان کے پاؤں میں موہکا تشخیص

پارٹی کے مطابق شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید سمیت متعدد قومی و صوبائی اسمبلی اراکین اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات اور سزاؤں سے گزرنا پڑا۔

خواتین رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزام

بیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین رہنماؤں، جن میں کنول شوزب، صنم جاوید، عائشہ بھٹہ، خدیجہ شاہ، فلک جاوید اور دیگر شامل ہیں، کو جن مقدمات اور طرزِ سلوک کا سامنا کرنا پڑا، وہ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے۔

آئینی ترامیم اور عدلیہ پر دباؤ

پی ٹی آئی نے چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کو پارلیمانی نظام اور عوامی نمائندگی پر حملہ قرار دیا۔

مزید کہا گیا کہ اس کے بعد عدالتوں کو کمزور کرنے، عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے اور انصاف کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں، حالانکہ عدالتیں انسانی حقوق کی آخری محافظ ہوتی ہیں۔

میڈیا پر پابندیاں اور سنسرشپ

بیان میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے میڈیا پر دباؤ بڑھایا، پروگرام بند کیے، مخصوص افراد کو نمایاں کیا، رپورٹنگ پر پابندیاں لگائیں اور عمران خان کو تین سال تک غیر اعلانیہ طور پر مکمل پابندی کا سامنا رہا۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزادی اور انسانی حقوق کے اشاریے مسلسل نیچے گئے۔

پی ٹی آئی نے کہا کہ انسانی حقوق کوئی حکومتی رعایت نہیں بلکہ آئینی اور فطری حقوق ہیں جو کسی طاقت کے ذریعے چھینے نہیں جا سکتے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عوام کی آواز نہ پہلے دب سکی تھی نہ اب دب رہی ہے، اور ظلم دیرپا نہیں ہوتا۔

تحریک انصاف نے کہا کہ وہ کارکنان، رہنماؤں، خواتین، نوجوانوں، صحافیوں اور ہر اس شہری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جس کے حقوق پامال کیے گئے۔

پارٹی کے مطابق یہ جدوجہد کسی فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کے وقار اور آزادی کی جنگ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں بدامنی کی وجہ صرف معاشی مسائل نہیں، پروپیگنڈے نے حقائق کو مسخ کیا

عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

ایپسٹین کی موت کی وجہ خودکشی کے بجائے قتل ہے، پوسٹ مارٹم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا دعویٰ

ٹی20 ورلڈ کپ: بھارت میں پاکستانی اسپنر کا خوف، سابق کرکٹر نے اپنی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

محمد یونس کی طارق رحمان کو مبارکباد، بی این پی کی جیت کو تاریخی قرار دیا

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟