بالی وڈ کی نئی ایکشن فلم ’دھُرندھر‘ کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر بحث کی بڑی وجہ بن گیا جہاں پاکستانی صارفین نے فلم میں دکھائے گئے مناظر اور مکالموں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں چوہدری اسلم کی اہلیہ نے فلم کے ایک متنازع مکالمے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق ٹریلر میں یہ جملہ شامل ہے کہ ’شیطان اور جن سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے اسے چوہدری اسلم کہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات براہ راست شہید کی والدہ کی طرف جاتی ہے جو ایک پاکیزہ، باپردہ اور دیندار خاتون تھیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں، یہاں ایسی باتیں قابلِ قبول نہیں، ہم مسلمان ہیں، شیطان اور جنوں سے عورتوں کے تعلق نہیں بنتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سنجے دت ایک اچھے اداکار ہیں غلطی ان کی نہیں اصل معاملہ لکھاریوں کا ہے جو ہمیشہ پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔
چوہدری اسلم کی بیوہ نے مزید کہا کہ اگر پاکستان ہی ہر دہشت گردی کی جڑ ہے تو پھر وہ بھارتی فوجی افسر جس کے بارے میں سامنے آیا تھا کہ اس نے چوہدری اسلم پر ڈالرز خرچ کیے وہ کیا تھا؟ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مسخ شدہ تصویرکشی، بالی ووڈ کی فلم ’دھُرندھر‘ تنقید کی زد میں
واضح رہے کہ اس فلم میں ایک کردار سندھ پولیس کے افسر چوہدری اسلم بھی ہیں جو ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘ کہلائے جاتے تھے اور نو جنوری 2014 کو ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ یہ کردار سنجے دت ادا کر رہے ہیں۔
فلم کی دیگر کاسٹ میں رنویر سنگھ، ارجن رامپال اور اکشے کھنہ ہیں اور اس کی کہانی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈین ایجنٹس اور کراچی کی مشہور زمانہ لیاری گینگ وار کے چند حقیقی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک بدنام زمانہ ڈاکو نے کیسے چوہدری اسلم سمیت دیگر پولیس افسران کو جیل بھیجا؟
دسمبر کے اوائل میں ریلیز ہونے والی ’دھُرندھر‘ کو پہلے ہی بالی وڈ کے لیے شرمندگی کا سبب قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ناظرین بشمول خود بھارتی شہری اس کی مبالغہ آرائی، مسخ شدہ حقائق اور پاکستان کی غیر حقیقی تصویرکشی پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق بالی وڈ بھارتی قوم پرستی کے اُس رجحان کی پیروی کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں پاکستان کی تاریخ کے ہر پہلو کو کسی نہ کسی طور بھارت سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔














