آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذ کر دی۔ نئے قانون کے تحت ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور فیس بک سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کی رسائی بند کریں، ورنہ انہیں تقریباً 33 ملین ڈالر تک جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی لگنے والی ہے؟
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس اقدام کو خاندانوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی اہم سماجی تبدیلیوں میں سے ایک ہے اور آن لائن نقصانات کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
انہوں نے بچوں کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا کے بجائے کھیلوں، موسیقی یا کتابوں میں وقت گزاریں۔
ٹک ٹاک پر تقریباً 2 لاکھ اکاؤنٹس بند، بچوں کی الوداعی پوسٹ
پابندی کے آغاز کے ساتھ ہی صرف ٹک ٹاک پر تقریباً 2 لاکھ اکاؤنٹس بند کردیے گئے، جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید لاکھوں اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔ لاکھوں متاثرہ بچوں نے پابندی سے قبل الوداعی پوسٹس بھی شیئر کیں جن میں بعض نے لکھا کہ وہ سوشل میڈیا سے دور رہیں گے اور 16 سال کی عمر میں واپسی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا استعمال ترک کرنے کے لیے 30دن کی مہلت
پابندی کو توڑنے کے نئے طریقے
کئی بچے پابندی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس پابندی کو توڑنے کے نئے طریقے تلاش کرلیں گے۔ تاہم کچھ بچوں نے اسے مثبت قدم قرار دیا۔
مختلف ممالک کا آسٹریلوی ماڈل کو اپنانے پر غور
عالمی سطح پر اس فیصلے کو خاصی توجہ ملی ہے اور مختلف ممالک اس ماڈل کو اپنانے پر غور کررہے ہیں۔ یورپی یونین کے بعض ارکان نے آسٹریلیا سے رہنمائی لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
مصنوعی ذہانت، سیلفی تجزیہ اور شناختی دستاویزات کی جانچ
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اس پابندی پر عملدرآمد کے لیے عمر کا اندازہ لگانے کے مختلف طریقوں کا اعلان کیا ہے جن میں مصنوعی ذہانت، سیلفی تجزیہ اور شناختی دستاویزات کی جانچ شامل ہے۔
ایکس پلیٹ فارم نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ قانون کی ضروریات پوری کرے گا، ملک میں پابندی سے پہلے 8 سے 15 سال کے تقریباً 86 فیصد بچے سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے۔














