اندرونی عدالتی امور میں مداخلت کا الزام، پاکستان نے ناروے کے سفیر کو احتجاجی مراسلہ جاری کردیا

جمعرات 11 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے ناروے کے سفیر کو باضابطہ ڈیمارش (احتجاجی مراسلہ) جاری کر دیا ہے۔

یہ اقدام ناروے کی جانب سے پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں مداخلت سمجھی جانے والی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قلابازیاں جاری

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ناروے کے سفیر سپریم کورٹ آف پاکستان میں انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ ایڈووکیٹ کی درخواست پر عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے آئے تھے۔ اس پر سفارتی حلقوں میں اس وقت بحث جاری ہے کہ کسی ملک کا سفیر آخر کیوں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی کارروائی میں شریک ہوتا ہے۔

عمومی طور پر سفیر کسی عدالتی سماعت میں اسی صورت موجود ہوتا ہے جب معاملہ اُس کے ملک کے کسی شہری سے متعلق ہو، یا وہ بطور مبصر کارروائی کا جائزہ لینا چاہے تاکہ شفافیت اور منصفانہ سلوک کا یقین کیا جاسکے۔ تاہم ایسی موجودگی بھی عموماً اپنے ملک کی واضح اجازت یا باضابطہ سفارتی ضرورت کے بغیر نہیں ہوتی۔

سفارتی آداب کے مطابق کسی بھی سفیر کی عدالت میں آمد نہ صرف ایک حساس معاملہ تصور کی جاتی ہے بلکہ اس سے میزبان ملک کے عدالتی امور میں مداخلت یا اثرانداز ہونے کا تأثر بھی پیدا ہوسکتا ہے، جس سے گریز کی ہدایت کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد، ملزمان کی جج سے تلخ کلامی

بین الاقوامی سفارتی ضابطے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سفارتکار براہِ راست عدالتی نظام کا حصہ بننے یا کسی مقدمے پر اثر ڈالنے سے احتراز کریں۔

ناروے کے سفیر کی جانب سے سپریم کورٹ میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ ایڈووکیٹ کی درخواست پر ہونے والی سماعت میں شرکت نے اسی حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ سفیر نے اگرچہ ٹرائل میں کبھی شرکت نہیں کی، لیکن سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران ان کی موجودگی کو بعض حلقوں نے متعلقہ فریقین کی خواہش پر ان کی جانب سے ممکنہ اثراندازی کے طور پر لیا ہے۔

ہادی علی چھٹہ اور ایمان مزاری پر کیا کیس ہے؟

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’ریاست مخالف‘ جذبات شیئر کرنے کے الزام میں مزاری اور چٹھہ کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ دونوں پر باقاعدہ طور پر 30 اکتوبر کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جبکہ ایک روز قبل چٹھہ کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر کمرۂ عدالت کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چٹھہ نے دعویٰ کیا کہ وہ 29 اکتوبر کی سماعت کے لیے پانچ منٹ پہلے ہی عدالت پہنچ چکے تھے، اس کے باوجود جج نے ان کے سامنے ہی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا۔

مقدمے اور گرفتاری کے بعد سماجی حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا

کھلاڑی امیدوں پر پورا نہیں اترے، ہر 6 مہینے بعد نئے کھلاڑی شامل کرنا بھی ممکن نہیں، سلیکشن کمیٹی

امریکی سفارتخانے کا 20 مارچ تک تمام ویزا اپائنٹمنٹس منسوخ کرنے کا اعلان

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے