اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

جمعرات 2 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف ٹرائل کورٹس کے ججز سے منسوب بیان پر دائر توہینِ عدالت کی درخواست قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ درخواست قابلِ سماعت بھی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کو خود بتانا چاہیے کہ ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے، اگر کوئی اور آکر یہ دعویٰ کرے گا تو اس سے مختلف تاثر جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت، فردِ جرم عائد لیکن کارروائی مؤخر

درخواست گزار حافظ احتشام احمد نے ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری نے پریس کلب کے باہر تقریر میں یہ تاثر دیا کہ ججز میں تقسیم ہے اور ٹرائل کورٹس کے ججز پر دباؤ ہے۔

اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہیں پر رک جائیں، آگے ایک لفظ بھی نہ بولیے گا۔

’کسی کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن اس عدالت میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔‘

مزید پڑھیں:جسٹس سرفراز ڈوگر کیخلاف شکایت، ایمان مزاری نے اضافی دستاویزات جمع کرادیں

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس عدالت میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر کسی جج نے کوئی شکایت کی ہے تو وہ سامنے لائیں، ورنہ محض کسی تقریر کو توہینِ عدالت قرار دینا درست نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اچھے جج بھی ہوتے ہیں اور نالائق جج بھی، اس حقیقت کا ذکر کرنا توہین عدالت نہیں کہلاتا۔

’ہر کسی کو آزادی اظہارِ رائے حاصل ہے، چاہے وہ اخبار پڑھتا ہو یا وی لاگ سنتا ہو۔‘ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

وزیراعظم شہباز شریف سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘