وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے ترکمانستان دورے کے دوران عالمی رہنماؤں کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے نہایت دوستانہ ماحول میں مصافحہ کیا اور کچھ دیر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے رہے، جسے ذرائع نے گرم جوشی اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا ترکمانستان میں عالمی فورم سے خطاب
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقاتوں کے دوران وزیرِ اعظم نے پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات میں ترکیہ کے کردار کو سراہا اور امن کے قیام کے لیے اس کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ علاقائی امن تب ہی ممکن ہے جب پاکستان کے سلامتی کے خدشات کو سنجیدگی سے حل کیا جائے گا۔ انہوں نے اسلام آباد، تہران اور استنبول کے درمیان ریل رابطے کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور سیاسی، اقتصادی، دفاعی، توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ترکمانستان کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق
ایرانی صدر سے گفتگو میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے خدشات، خاص طور پر افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے، افغان عبوری حکومت کو بامعنی اقدامات کرنے چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ میں امن کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا اور وزیرِ اعظم نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔














