پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا کے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے فوج کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف کے ٹرائل، سزا اور دیگر کارروائیوں پر بات کرنا فوجی ادارے کا داخلی معاملہ ہے، جس پر پارٹی کا کوئی مؤقف نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ جب فیض حمید کو حراست میں لیا گیا تو اس وقت بھی پارٹی سے ردِعمل مانگا گیا، مگر یہ واضح کیا گیا کہ فوج کے اپنے احتسابی نظام موجود ہیں۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سیاسی عناصر کا ذکر کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بعض حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو بھی اس سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ آئی ایس پی آر پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ سزا یافتہ افسر کے سیاسی بے چینی اور عدم استحکام میں مبینہ کردار کے پہلو کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے معافی کی اپیل؟ عمران خان کے فوجی ٹرائل پر سوالات؟
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ جب تک کسی سیاسی شخصیت کا نام واضح طور پر سامنے نہیں آتا، تب تک بیان بازی کا کوئی جواز نہیں۔ ان کے مطابق اگر آئندہ کسی سیاسی شخصیت کا براہِ راست حوالہ دیا گیا تو وہ خود اس پر جواب دیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال پارٹی کا مؤقف یہی ہے کہ یہ ایک ادارہ جاتی معاملہ ہے، جس پر کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔














