معروف دینی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی نے انتہاپسندانہ بیانیے کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔ ان کے بیانات کو شدت پسندی کے بیانیے کے مؤثر رد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئینی ترمیم: مولانا فضل الرحمان نے ملک و ملت کی عظیم خدمت کی، مفتی تقی عثمانی
مفتی تقی عثمانی کے مطابق پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اس لیے اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً ناجائز، غیر قانونی اور حرام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت میں ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی کوئی شرعی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ روس یا امریکا کے خلاف جہاد سے متعلق فتاویٰ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا درست نہیں، اور اس طرح کی تاویل یا تحریف ایک سنگین فتنہ ہے، جو دین کے نام پر گمراہی کو فروغ دیتی ہے۔
مفتی تقی عثمانی کے یہ بیانات انتہاپسند سوچ کے مقابلے میں ایک دوٹوک اور واضح دینی رہنمائی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔














