سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پی ٹی آئی کو مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ نے اپنے رویے پر نظر ثانی نہ کی تو ندامت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
کراچی میں سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو سزا کے بعد پی ٹی آئی سمیت جو سہولت کار تھے ہوشیار ہو جائیں، ان کا بھی احتساب ہوگا۔
مزید پڑھیں: فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں، محمود مولوی نے تہلکہ مچا دیا
انہوں نے فیض حمید کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج نے انتہائی طاقتور شخص کو احتساب کے عمل سے گزارا۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں ملکی ترقی کے لیے آپس کے جھگڑوں اور اختلاف کو ایک جگہ رکھ کر ساتھ چلنا پڑےگا۔
عمران اسماعیل نے کہاکہ پی ٹی آئی ہمیشہ پیپلز پارٹی سے بات نہ کرنے کا کہتی ہے، اس وقت تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت نااہل ہے۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ مزاحمت نہیں مفاہمت کی بات کرے، ورنہ صرف ندامت ہی ہوگی۔
عمران اسماعیل نے کہاکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت بڑھی ہے، ہمیں مل کر ملک کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، اس وقت پاکستان کو جو عالمی سطح پر پیذیرائی مل رہی ہے پہلے نہیں ملی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کا دنیا میں ہاتھ بھاری ہے، جبکہ بھارت گرا ہوا ہے اور سہمی ہوئی بلی کی طرح گھوم رہا ہے۔
فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں، محمود مولوی
قبل ازیں گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے کہاکہ فیض حمید سے ’فیض یاب‘ ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے فیض حمید سے بھرپور فائدے اٹھائے، اور اس شخص کی وجہ سے اداروں کو نقصان پہنچا، لیکن اب سب کا احتساب ہوگا۔
محمود مولوی نے کہاکہ کسی کو بھی ملک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہاکہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے لیکن کچھ لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں جو درست نہیں، کیوں کہ پنجاب میں تو پیپلز پارٹی خود نئے صوبے کے لیے قرارداد لائی تھی۔
محمود مولوی نے کہاکہ ملک کی آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا ناگزیر ہے، سندھ میں دو یا تین انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔














