سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سال 2025 میں بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف 78 ہزار آپریشنز کیے، جس کے نتیجے میں 700 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کی تیاری، رولز آف گیم بدلنے کے بعد کیا ہوگا؟
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 2025 میں صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف 78ہزار آپریشنز کیے گئے، جن میں پولیس، پاک فوج اور باقی قانون نافذ کرنے والے ادارے شامل ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ ان آپریشنز میں 707 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ ان کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 202 اہلکار شہید ہوئے، اس دوران دہشتگردی کے واقعات میں 280 سویلینز بھی شہید ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز جاری رہیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انسداد دہشتگردی کی ڈومین کے اوپر ایک کمیٹی بھی بنائی ہوئے ہے، یہ کمیٹی سی ٹی ڈی ڈیپارٹمنٹ کو بہتر کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 15 دہشتگرد ہلاک
حمزہ شفقات نے بتایا کہ حکومت بلوچستان نے تھانوں کی قلعہ بندی کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے ہوئے ہیں، صوبے کے تمام تھانوں کو قلعہ بند کیا جائے گا، سیکیورٹی فورسز کو جدید ہتھیار مہیا کرنے کے لیے کام جاری ہے، ڈرون لیے جارہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی ٹریننگ باقی صوبوں کی فورسز کے ساتھ مل کر چل رہی ہے، 60 فیصد ٹریننگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ امید ہے کہ مالی سال کے اختتام پر ٹریننگ 100 فیصد مکمل ہوجائے گی۔
خاران میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 دہشتگرد گرفتار
اس موقع پر نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان نے بتایا کہ رواں سال اکتوبر میں ایس ایچ او خاران کو شہید کیا گیا تھا، ان کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الہندوستان سے ہے۔
انہوں نے گرفتار دہشتگردوں کی ویڈیوز بھی دکھائیں جس میں وہ اپنے جرائم کا اعتراف کررہے ہیں۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ایک ہلاک ہونے والا دہشتگرد میرل نوکنڈی حملے میں ملوث تھا، جس کے بارے میں کالعدم بی ایل ایف نے بھی بتایا کہ ان کا ساتھی وہاں مارا گیا، نوکنڈی میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملے کی منصوبہ بندی میں اس کا بھائی بھی شامل تھا اور وہ وہاں مارا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں آپریشن، 27 دہشتگرد ہلاک کردیے
انہوں نے کہا کہ میرل کے گروپ کے باقی لوگ صدام، سرفراز ہیں، یہ گروپ پولیو ٹیم کی ریکی اور انہیں مارے میں شامل تھا، قلات سے قاضی صاحب اغوا ہوئے، اس میں یہ گروپ ملوث تھا، ہم گرفتار لوگوں کو عدالت میں پیش کریں گے۔
’ہماری کوشش ہے کہ عدالتوں سے ان دہشتگردوں کو سزا دلوائی جائے اور یہ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں، گرفتار دہشتگردوں کی ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائی جاری ہے، کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد گرفتار ہوجائیں۔‘














