پنجاب حکومت کی ایک خصوصی ٹیم نے لاہور کے داتا دربار کے قریب واقع پرندہ مارکیٹ میں کیے گئے اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔
رپورٹ میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پرندوں اور جانوروں کی مارکیٹوں میں ایسے آپریشنز کے لیے کوئی معیاری ایس او پیز موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے آپریشن کے دوران انہیں فالو نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور کی 30 سالہ پرانی پرندہ مارکیٹ کیوں مسمار کی گئی؟
تاہم، رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران کسی پرندے یا جانور کی ہلاکت کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور تمام جانور محفوظ طریقے سے منتقل کیے گئے۔
پرندہ مارکیٹ کیوں گرائی گئی؟
داتا دربار لاہور کا ایک تاریخی اور مذہبی مقام ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ یہاں پر یہ مارکیٹ تقریباً 30 سال پرانی تھی اور بھاٹی گیٹ کے علاقے میں محکمہ اوقاف کی زمین پر قائم تھی۔ نومبر 2025 کے آغاز میں، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایل ڈی اے نے داتا دربار توسیعی منصوبے کے تحت اس مارکیٹ کو مسمار کرنے کا آپریشن کیا، جس کا مقصد علاقے کی توسیع اور تجاوزات کا خاتمہ تھا۔
یہ آپریشن 6 سے 8 نومبر کے درمیان رات کے وقت کیا گیا، جس پر دکانداروں نے الزام لگایا کہ انہیں پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا اور آپریشن اچانک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کوٹلی کے نوجوان پرندوں کے لیے دانا پانی کا انتظام کیسے کرتے ہیں؟
اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ آپریشن کے دوران درجنوں پرندے اور جانور ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے۔ حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپس نے اسے ‘جانوروں کا قتل عام’ قرار دیا اور لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ عدالت نے پنجاب وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کو رپورٹ طلب کی، جس کے جواب میں یہ تحقیقات کی گئیں۔
عدالت میں جمع کروائی رپورٹ میں کیا انکشاف کیے گئے ہیں؟
پنجاب وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ، جو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر تیار کی گئی، میں بتایا گیا ہے کہ:
– آپریشن میں کل 152 دکانیں مسمار کی گئیں، جن میں سے 63 میں پالتو پرندے اور جانور موجود تھے۔
– تمام دکانیں مالکان کی موجودگی میں خالی کی گئیں، اور کسی ایک دکاندار نے بھی جانوروں کی ہلاکت کی شکایت درج نہیں کروائی۔
– پرندوں کی ہلاکتوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا؛ تمام پرندے اور جانور محفوظ طریقے سے منتقل کیے گئے، اور کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: جانوروں پر تشدد: پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے لیے کیا قوانین ہیں؟
رپورٹ میں حکومت نے اعتراف کیا کہ ایل ڈی اے کے پاس پرندوں اور جانوروں کی مارکیٹوں میں آپریشنز کے لیے مخصوص ایس او پیز موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے انہیں فالو نہیں کیا جا سکا۔ مزید برآں، محکمہ لائیو سٹاک پنجاب اینیمل ہیلتھ ایکٹ 2019 کے تحت تاحال رولز بنانے میں ناکام رہا ہے۔
سیکریٹری وائلڈ لائف مدثر ریاض ملک نے رپورٹ کی کاپی ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل لاہور ہائی کورٹ کو بھجوا دی ہے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل
رپورٹ میں قوانین میں موجود خلا کو پر کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی ایس او پیز، گائیڈ لائنز اور قوانین کی تیاری کے لیے کام کرے گی اور ایک ماہ میں اپنی تجاویز اور سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔
کمیٹی کی سربراہی ڈی جی وائلڈ لائف کریں گے، جبکہ اس میں لوکل گورنمنٹ، ڈپٹی کمشنر آفس، لائیو سٹاک ڈپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے وکیل التمش سعید بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
یہ کمیٹی کا قیام حیوانات کے حقوق کے حامیوں کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جو اس واقعے کو ‘جانوروں کی تباہی’ قرار دے رہے تھے۔ التمش سعید نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ اصلاحات پنجاب میں حیوانات کی فلاح کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔













