وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے خبردار کیا ہے کہ آنے والا سال ملکی معیشت اور عام شہریوں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر لیوی میں 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام کو آئندہ 5 سے 6 سال تک برداشت کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بجلی چوروں اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے عناصرکے خلاف ایف آئی اے سرگرم
مزمل اسلم کے مطابق 2026 میں غربت کی شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح جو اس وقت 6 فیصد ہے، جون 2026 تک بڑھ کر 8 اعشاریہ 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال نہ صرف مہنگائی بلکہ ٹیکسوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا، جبکہ عام صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب مالیاتی امور پر وفاق اور صوبوں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے مزمل اسلم نے بتایا کہ میٹنگ میں وفاق اور صوبوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا، 6 سے 7 ورکنگ گروپس بنانے کا فیصلہ ہوا ہے، جن کے اوپر ایک علیحدہ کوآرڈینیشن گروپ ہوگا۔
ان کے مطابق ہر پروگرام کے لیے الگ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا، جبکہ فاٹا کو مالیاتی ڈھانچے اور صوبائی شیئر میں شامل کرنے کے لیے خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ وفاق اور صوبے اپنے ٹیکسز بڑھانے اور بہتر بنانے پر بھی کام کریں گے۔ چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکسوں میں 3 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صوبوں کو پراپرٹی ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایگریکلچر ٹیکس پر توجہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزمل اسلم کے مطابق صوبوں نے اپنا بجٹ اپنی مرضی سے چلانے کا مطالبہ کیا ہے اور کسی قسم کی ڈکٹیشن قبول نہ کرنے کا واضح پیغام دیا ہے۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں 51 لاکھ افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، سندھ میں 26 لاکھ، خیبرپختونخوا میں 22 لاکھ، بلوچستان میں 4 لاکھ جبکہ اسلام آباد میں 21 ہزار افراد کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت نان پی ٹی اے فونز پر 4 قسم کے کونسے ٹیکس وصول کر رہی ہے؟
کرپشن سے متعلق ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب میں 34 فیصد شہریوں نے پولیس پر رشوت لینے کا الزام لگایا، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 22 فیصد ہے۔ سرکاری افسران کی جانب سے رشوت لینے کی شرح سندھ میں 46 فیصد، پنجاب میں 39 فیصد، بلوچستان میں 31 فیصد اور خیبرپختونخوا میں 20 فیصد بتائی گئی ہے۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی ‘دستک ایپ’ کو عالمی سطح پر ایوارڈ ملنا صوبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔














