فیض حمید کو سزا کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کہاں ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں؟

بدھ 17 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں اور الزامات کے درمیان ان کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان میں موجود ہیں اور کہیں نہیں جا رہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر الزامات پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟

ن لیگ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیض حمید اور ثاقب نثار کا گٹھ جوڑ تھا، جس کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم سابق چیف جسٹس کے فیملی ذرائع نے ان الزامات کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کردار کشی کی مہم ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے حساب لے گا۔

ثاقب نثار کیا سوچ رہے ہیں؟

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ پاکستان میں ہی ہیں اور ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہاکہ میڈیا میں ان کے خلاف جو کچھ بھی بولا جا رہا ہے، وہ اس کا حصہ نہیں تھے۔

’جب ایک شخص اتنا بڑا عہدہ سنبھالتا ہے تو کچھ لوگوں کو فیصلے پسند آتے ہیں، کچھ کو نہیں آتے، یہی معاملہ ان کے ساتھ ہوا ہے۔‘

فیملی ذرائع نے مزید کہاکہ ثاقب نثار کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں، جن میں کوئی حقیقت نہیں، اور جو لوگ ان کی کردار کشی کر رہے ہیں، ان کو اللہ کے ہاں جواب دینا پڑےگا۔

فیملی ذرائع نے بتایا جب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائر ہوئے ہیں اس کے بعد سے وہ اپنے چیمبر میں بیٹھتے ہیں، اور معمول کے مطابق وہاں جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ثاقب نثار پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں، انہوں نے بطور چیف جسٹس جو بھی فیصلے کیے وہ ان پر قائم ہیں اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ پر انہیں تشویش ہے۔

ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس کون کون سی مہمات شروع کیں؟

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 31 دسمبر 2016 سے 17 جنوری 2019 تک پاکستان کے 25ویں چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔

ان کا دور جوڈیشل ایکٹیوزم کے لیے مشہور رہا، جس میں ڈیم فنڈ کی مہم، اسپتالوں اور تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، جبکہ ماحولیاتی مسائل پر توجہ شامل تھی۔

تاہم ان کے کچھ فیصلوں کو متنازع قرار دیا گیا، خاص طور پر نواز شریف کی نااہلی اور دیگر سیاسی مقدمات میں ان کے کردار کو متنازع کہا جا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے فیصلوں نے سیاسی اثرات مرتب کیے، جبکہ حامی انہیں اصلاحات کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ثاقب نثار نے ملک کو نقصان پہنچایا، فوج کی طرح عدلیہ کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے، طلال چوہدری

سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی سزا کے بعد الزامات کی لہر میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ثاقب نثار کے ذرائع نے انہیں مسترد کردیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں اداروں کے درمیان توازن کی بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برطانیہ میں 35 ممالک کی ملاقات، آبنائے ہرمز کھولنے پر غور

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ایران پر حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ مندی کی نذر

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں مفت علاج اور صحت کے 4 بڑے منصوبوں کا جائزہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟