مسٹر چینج کے نام سے مشہور ہونے والے میاں منظور وٹو کون تھے؟

بدھ 17 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میاں منظور وٹو نے 1970 کی دہائی میں سیاست کا باقاعدہ آغاز کیا اور 1985 میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ انہوں نے 3 بار سنبھالا۔

میاں منظور وٹو، جو مسٹر چینج کے نام سے مشہور تھے، نے اپنے طویل سیاسی کیریئر میں متعدد پارٹیوں سے وابستگی اختیار کی اور پنجاب کی سیاست کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1993 میں 2 بار اور 1996 میں ایک بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ رہے، جبکہ وفاقی سطح پر بھی مختلف وزارتوں کا حصہ بنے۔ کئی دہائیوں تک ایوانوں میں سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر سمجھے جاتے رہے۔

پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے میاں منظور وٹو کو کئی دہائیوں تک گیم چینجر سمجھا جاتا رہا۔ سب سے زیادہ ان کی سیاسی صلاحیتیں پنجاب کے ایوانوں میں اس وقت نمایاں ہوئیں جب انہوں نے 1993 میں، میاں نواز شریف کے وزیرِاعظم ہوتے ہوئے، انہی کی جماعت کے وزیرِاعلیٰ غلام حیدر وائیں کے خلاف اپنی جماعت مسلم لیگ جونیجو کی 18 نشستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کی حمایت سے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کرا کے وزیرِاعلیٰ پنجاب کا منصب حاصل کیا۔ اس سے قبل وہ 3 بار پنجاب اسمبلی کے اسپیکر بھی منتخب ہو چکے تھے۔

منظور وٹو پاکستان مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ رہے۔ حالیہ برسوں میں وہ دوبارہ پیپلز پارٹی میں واپس آ گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو انتقال کر گئے

2013 کا سال میاں منظور احمد وٹو کے لیے کوئی اچھا شگون ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اس برس پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر ہونے کے باوجود وہ الیکشن میں تمام نشستیں ہار گئے۔ تاہم الیکشن کے صرف 45 دن بعد ہی حویلی میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی جیتی ہوئی نشست پر ان کے بیٹے میاں خرم جہانگیر وٹو ایم پی اے منتخب ہو گئے۔

الیکشن 2018 میں کامیابی کے لیے میاں منظور احمد وٹو نے ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی ترتیب دی اور اپنی بیٹی روبینہ شاہین اور میاں خرم جہانگیر وٹو کو پی پی 184 اور پی پی 186 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑوایا، جبکہ خود پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں این اے 144 سے آزاد حیثیت میں کھڑے ہو گئے۔ اس حلقے میں پاکستان تحریکِ انصاف نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا، جبکہ میاں منظور وٹو نہ صرف این اے 143 سے دستبردار ہو گئے بلکہ انہوں نے اس حلقے میں پی ٹی آئی کی حمایت بھی کی۔

میاں منظور احمد وٹو کے سیاسی کیریئر کا یہ اتفاق بھی ہے کہ انہوں نے 1977 میں پہلا الیکشن بھی آزاد حیثیت میں لڑا اور ہار گئے، جبکہ 2018 میں آخری الیکشن بھی آزاد حیثیت میں لڑا اور شکست کھائی۔

2020 کے بعد میاں منظور وٹو نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وفات کے وقت وہ پیپلز پارٹی کے اہم رکن شمار ہوتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟