وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ دنیا کے موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج ’مس انفارمیشن‘ ہے، جس کی شدت حالیہ سڈنی، آسٹریلیا کے بونڈی بیچ حملے کے بعد سامنے آئی، جب فوری طور پر سوشل میڈیا پر بغیر ثبوت کے حملہ آور کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔
میڈیا کی ارتقا اور ڈیجیٹل چیلنجز
عطا تارڑ نے خطاب میں بتایا کہ پاکستان میں روایتی میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا تک کا ارتقا قدرتی تھا، جس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک موجود تھے، مگر الیکٹرانک سے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف منتقلی غیر متوقع تھی۔ اس غیر متوقع تبدیلی کی وجہ سے سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل لٹریسی، اور ذمہ دارانہ رویے میں کمی دیکھنے میں آئی، جس نے معلومات کی غلطی کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔
سڈنی حملے کے بعد پاکستان کو غلط الزامات کا سامنا
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بونڈی بیچ حملے کے بعد عالمی اور مقامی میڈیا نے حملہ آور کے نام سے پاکستان کا نام جوڑ دیا، حالانکہ کوئی مستند ثبوت موجود نہیں تھا۔ انہوں نے اے آئی ویریفائی سسٹم کے ذریعے فوری طور پر حقائق کی تصدیق کر کے غلط اطلاعات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان کے سیاسی مشیر رہے، عطا تارڑ کا دعویٰ
عطا تارڑ نے بتایا کہ اس غلط رپورٹنگ سے پاکستانی شہریوں کی ساکھ اور حفاظت متاثر ہو سکتی تھی، خاص طور پر ایسے دن جب ہم APS کے شہداء کی قربانی کو یاد کر رہے تھے۔
ڈیجیٹل لٹریسی اور ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال کی ضرورت
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کے لیے آگاہی بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا ہے، اور فیکٹ چیکنگ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی چینلز پر پاکستان کیخلاف انٹرویوز دینے والوں کو شرم آنی چاہیے، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
انہوں نے کہا صحافیوں اور میڈیا عملے کے لیے ورکشاپس اور تربیت کے پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ساتھ آگاہی کے اقدامات
وزیر اطلاعات نے ٹک ٹاک کے اے آئی لیبلنگ فیچر کی تعریف کی، جس کے ذریعے صارفین کو بتایا جاتا ہے کہ دیکھنے والا مواد AI کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، تاکہ ڈیجیٹل صارفین زیادہ آگاہ اور ذمہ دار رویہ اختیار کریں۔














