بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جانے والا چوتھا ٹی20 انٹرنیشنل بدھ کے روز شدید دھند اور اسموگ کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔
لکھنؤ کے ایکانا اسٹیڈیم میں اسموگ کی موٹی تہہ چھا جانے سے حدِ نگاہ بری طرح متاثر ہوئی، جس کے بعد میچ کا انعقاد ممکن نہ رہا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ٹیم کی ٹیسٹ کرکٹ میں ناقص کارکردگی کے باوجود گوتم گمبھیر کا مستعفی ہونے سے انکار
اس صورتحال نے موسمِ سرما کے عروج پر شمالی بھارت میں میچز شیڈول کرنے کے حوالے سے بی سی سی آئی کی منصوبہ بندی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
سرکاری طور پر میچ کو ایک گیند بھی کرائے بغیر’حد سے زیادہ دھند‘ کے باعث ترک کرنے کا اعلان کیا گیا، تاہم حقیقت یہ تھی کہ اسموگ نے اسٹیڈیم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
Who organised match in Lucknow ??
Have some sh@me BCCI 🤡 #INDvsSA
— Veena Jain (@Vtxt21) December 17, 2025
بی سی سی آئی نے اپنے آخری بیان میں کہا کہ شدید دھند کے باعث چوتھا ٹی20 منسوخ کیا جا رہا ہے۔
بدھ کے روز لکھنؤ میں ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد سے تجاوز کرتے ہوئے 400 سے اوپر رہا، جس سے کھلاڑیوں کی صحت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ ہوا۔
بھارتی ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کو وارم اپ کے دوران آلودگی سے بچاؤ کے لیے سرجیکل ماسک پہنے دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: جنوبی افریقہ نے بھارت کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دے کر سیریز برابر کرلی
یہ میچ شام 7 بجے شروع ہونا تھا، تاہم چھٹی بار معائنہ کیے جانے کے بعد رات ساڑھے 9 بجے باضابطہ طور پر منسوخی کا اعلان کیا گیا۔
اس وقت تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ رات بڑھنے کے ساتھ حدِ نگاہ مزید خراب ہی ہونی ہے۔
کھلاڑیوں نے شام ساڑھے 7 بجے ہی وارم اپ چھوڑ کر ڈریسنگ رومز کا رخ کر لیا تھا، جبکہ سرد موسم میں اسٹیڈیم آنے والے شائقین بھی رات 9 بجے تک واپس جانا شروع ہو گئے تھے۔
BCCI is expecting cricketers to play here. 🤡🤡 pic.twitter.com/cYkCrbWih9
— Aditya Saha (@Adityakrsaha) December 17, 2025
بی سی سی آئی کے نائب صدر اور اتر پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن کی اہم شخصیت راجیو شکلا معائنوں کے دوران گراؤنڈ میں آئے، تاہم میچ حکام سے گفتگو کے بعد ان کے تاثرات مایوسی کا پتہ دے رہے تھے۔
ریزرو ڈے نہ ہونے کے باعث دونوں ٹیمیں اب جمعہ کو ہونے والے آخری ٹی20 کے لیے احمد آباد روانہ ہوں گی۔ اس وقت بھارت کو سیریز میں 2-1 کی برتری حاصل ہے۔
اگرچہ بی سی سی آئی مقامات کی تقسیم کے لیے روٹیشنل پالیسی اپناتا ہے، تاہم امکان تھا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف جنوری میں شروع ہونے والی وائٹ بال سیریز کے مقامات سے تبادلہ کر کے صورتحال بہتر بنائی جا سکتی تھی۔
مزید پڑھیں: گھر کے شیر گھر میں ڈھیر: جنوبی افریقہ کا بھارت کو وائٹ واش، ٹیسٹ سیریز 0-2 سے جیت لی
نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز زیادہ تر مغربی اور جنوبی بھارت کے شہروں میں کھیلی جائے گی، جہاں موسم نسبتاً سازگار رہتا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی بھارت کے کئی مقامات پر سردیوں میں موسم اور آلودگی کی وجہ سے میچز متاثر ہوتے رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے دھرم شالہ میں کھیلا گیا تیسرا ٹی20 لگ بھگ 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم درجہ حرارت میں ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: جنوبی افریقہ کی 25 سال بعد بھارت میں تاریخی فتح
میچ کے بعد بھارتی اسپنر ورون چکرورتی نے بھی اعتراف کیا کہ اس قدر سرد حالات میں کھیلنا ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بی سی سی آئی کی آپریشنز ٹیم نے شمالی شہروں کے تاریخی موسمی اور آلودگی کے اعداد و شمار کا بہتر جائزہ لیا ہوتا یا دوپہر کے اوقات میں میچ شروع کرنے جیسا متبادل منصوبہ بنایا جاتا تو شائقین کو کم از کم میچ دیکھنے کا موقع مل سکتا تھا۔














