جو چیز ایک تجارتی تنازع کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب عالمی طاقتوں، اتحادیوں اور اثر و رسوخ کے تنازع میں بدل گئی ہے۔ حالیہ امریکی اقدامات، بشمول 30 فیصد ٹیرف اور G20 اجلاس میں غیر حاضری، جنوبی افریقہ کے لیے عالمی سیاست اور معیشت میں ایک اہم امتحان بن چکے ہیں۔
امریکی ٹیرف اور اقتصادی اثرات
امریکا نے اگست 2025 میں جنوبی افریقہ کی کئی برآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ صدر سرل رامافوسا نے خبردار کیا کہ اس سے ملازمتیں متاثر ہوں گی اور ریاستی آمدنی میں کمی آئے گی۔ امریکا، جنوبی افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے، اور زیادہ تر مصنوعات امریکی مارکیٹ میں مقابلے کی بجائے تکمیلی ہیں۔
🚨[SATIRE] SA vs USA in 1 min 17 secs flat. pic.twitter.com/JPUC3GFQMs
— 𝖱𝖤𝖢𝖮𝖭𝟣 ®✞ (@Recon1_ZA) May 22, 2025
نئی تجارتی راہیں اور BRICS کی اہمیت
سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کو نئے تجارتی شراکت دار تلاش کرنے ہوں گے اور BRICS کے ذریعے اپنا اثر بڑھانا ہوگا۔ امریکا کا خیال ہے کہ BRICS اس کے اقتصادی اور عالمی اثرات کو کمزور کرنے کے لیے قائم کیا گیا۔ اس لیے جنوبی افریقہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے معاشی مشکلات سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عالمی سیاست اور امریکی ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے G20 اجلاس میں غیر حاضری اختیار کی اور جنوبی افریقہ پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے افریقانرز کے حقوق کے بارے میں بیانات دیے، جو جنوبی افریقہ کی حکومت نے جھوٹ اور مغربی پراپیگنڈے کے طور پر مسترد کیے۔ اس کے پیچھے BRICS میں ملک کی شمولیت اور آزاد خارجہ پالیسی اہم وجہ سمجھی جاتی ہے۔
جنوبی افریقہ کا ردعمل اور داخلی سیاست
ANC اور اس کے اتحادی جماعتیں اس صورتحال میں ملک کی خودمختاری اور عالمی تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ داخلی سیاست میں مرکزیت رکھنے والی جماعتیں ملک کے زمین اصلاحات کے معاملات پر سخت موقف رکھتی ہیں، جبکہ ملک کا مقصد عالمی مارکیٹ اور BRICS کے ذریعے اقتصادی تعلقات بڑھانا ہے۔

عالمی طاقتوں کا بدلتا منظرنامہ
ماہرین کہتے ہیں کہ 1945 کے بعد قائم عالمی نظام ٹوٹ رہا ہے اور اب ترقی پذیر ممالک زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر رہے ہیں۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک جنوبی افریقہ اور دیگر ترقی پذیر ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ ان کے خلاف نہ جائیں۔
جنوبی افریقہ کی مثال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کیسے ایک ملک، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن اور تجارتی تنازعات میں ایک اہم ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے۔
براڈن نائیڈو، جو جنوبی افریقہ میں مقیم بین الاقوامی امور کے تبصرہ نگار ہیں۔
بشکریہ: رشیا ٹوڈے














