۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نجی ایئرلائن ایئر بلیو کے عملے کی جانب سے مسافر کا پاسپورٹ پھاڑنے کے واقعے میں پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (PAA) نے ایئرلائن کے عملے کو قصوروار قرار دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسافر قدرت اللہ کو گزشتہ روز ایئر بلیو کی پرواز PA-170 کے ذریعے جدہ جانا تھا۔ وہ دوپہر 1:25 بجے ایئر بلیو کے کاؤنٹر پر پہنچا، جہاں پاسپورٹ چیکنگ کے دوران یہ واقعہ پیش آیا۔
پاسپورٹ کیسے پھٹا؟
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایئر بلیو کے کاؤنٹر پر موجود خاتون ملازم کرن مسافر کا پاسپورٹ چیک کر رہی تھیں۔ اسی دوران پاسپورٹ پر لگا ہوا اسٹیکر ہٹاتے وقت پاسپورٹ پھٹ گیا۔ رپورٹ میں واضح طور پر اس عملے کی غفلت کو واقعے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے کراچی ایئرپورٹ: نجی ایئر لائن عملے نے مسافر کا پاسپورٹ پھاڑ دیا، جدہ کی پرواز سے محروم
پاسپورٹ خراب ہونے کے باعث مسافر سفر نہ کر سکا اور اسے پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔
مسافر کا احتجاج
ذرائع کے مطابق پاسپورٹ پھٹنے کے بعد مسافر قدرت اللہ انٹرنیشنل ڈیپارچر ٹرمینل بلڈنگ سے باہر آیا اور اپنے اہلِ خانہ کے دیگر افراد کے ساتھ احتجاج اور چیخ پکار شروع کر دی۔ اس موقع پر اے ایس ایف حکام اور ڈیوٹی ٹرمینل منیجر (DTM) بھی موجود تھے۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ایئر بلیو کا عملہ مسافروں کی شکایت سننے یا معاملہ حل کرنے کے لیے باہر نہیں آیا۔
ایئرلائن مکمل طور پر قصوروار
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی تحقیقات میں واقعے کی مکمل ذمہ داری ایئر بلیو کے عملے پر عائد کی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں ایئرلائن اور متعلقہ عملے کے خلاف اعلیٰ سطح کی تحقیقات اور کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان میں کتنی نئی ایئرلائنز پروازیں شروع کرنے والی ہیں؟
یاد رہے کہ گزشتہ روز یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مسافروں میں شدید تشویش کا باعث بنا، جس کے بعد ایئرپورٹ اتھارٹی نے معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کی تھیں۔













